اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 382
۳۸۲ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات وہی کفن کی چادریں پہنانی پڑیں۔امتہ الحفیظ شوکت صاحبہ، ڈاکٹر انعام الرحمن صاحب انور شہید کی اہلیہ کھتی ہیں۔جب ایک دن لوگوں نے آپ کو حالات خراب ہونے اور اس کے نتیجے میں خطرات سے آگاہ کیا تو آپ نے یہ کہہ کر علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ پھر تو یہ علاقہ احمدیت سے خالی ہو جائے گا۔آپ کے تمام بہن بھائیوں اور عزیز واقارب نے بھی سندھ چھوڑنے کا مشورہ دیا مگر اس وقت بھی حامی نہ بھری بلکہ کہنے لگے کہ شاید سندھ کی سرزمین میرا خون مانگتی ہے اور پھر سینے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ میں اس کے لئے تیار ہوں۔ڈاکٹر صاحب مجھے کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ جیسی دردمند ، محبت کرنے والی ، دین کی راہوں پر قدم مارنے والی ساتھی عطا کر دی ہے۔آخری دن جب ہم دونوں بازار گئے ہوئے تھے تو ایک دوکان پر مجھے انتظار کرنے کے لئے کہا اور ساتھ ہی ایک سٹول لا کر دیا کہ آپ یہاں گوارا نہ تھا کہ میں کھڑی ہو کر بے آرامی میں انتظار کروں۔ساتھ ہی گوشت کی دکان تھی ڈاکٹر صاحب گوشت لے کر پیسے نکالنے لگے تو پیچھے سے اچانک دشمنوں نے حملہ کر دیا اور موقع پر ہی آپ کو شہید کر دیا۔آپ کی لاش خون میں لت پت تھی۔آپ نے اپنے خون میں انگلیاں ڈبو کر لا الہ الا اللہ لکھا اور اس حالت میں جان دے دی۔ان کی شہادت کا منظر بڑا دردناک تھا۔میرے سامنے تڑپتے ہیٹیھیں یہ تڑپتے جان دی۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے صبر کی تو فیق بخشی۔عائشہ بی بی صاحبہ اہلیہ مہر دین صاحب سھتی ہیں ۷۴ء میں جب گوجرانوالہ میں حالات خراب ہوئے تو میرے بیٹے منیر کا غیر احمدی دوست آیا اور کہنے لگا کہ صبح یہاں بہت خطرہ ہے راتوں رات کہیں چلے جاؤ۔یہ تو وہی واقعہ ہے جو میں بیان کر چکا ہوں۔یہ تو وہ چند واقعات ہیں جو احمدی مردوں کی شہادتوں کے واقعات یا بعض احمدی خواتین کی شہادت کے واقعات کس طرح انہوں نے اپنے پیاروں کو خدا کی راہ میں جانیں لٹاتے دیکھا اور کس طرح انتہائی بہیمانہ اور سفا کا نہ سلوک پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو عظیم صبر کی توفیق بخشی۔یہ وہ داستانیں ہیں جن سے احمدیت زندہ ہے۔شہید خود بھی زندہ ہوتے ہیں اور ان قوموں کو بھی زندہ کر جاتے ہیں جن سے وہ وابستہ ہوتے ہیں۔ان کی زندگی کی گواہی جو قرآن کریم نے عطا فرمائی ہے اس کے ہم سب گواہ ہیں۔حقیقت میں شہیدوں کی زندگی سے قو میں زندگی پایا کرتی ہیں۔پس میں چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے بقیہ حصے کو آئندہ کے لئے رکھتا ہوں۔