اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 316

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۱۶ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء باپ کا احترام نہ ہو وہ شروع سے ہی ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ بڑا دلچسپ کارٹون آیا تھا کہ ایک ماں نے ایک بچے کو شاید کچھ ڈانٹایا سمجھایا، بچہ سراٹھا کر اس سے گفتگو کر رہا تھا اور آنکھوں میں بڑی تیزی دکھائی دے رہی تھی کہ یہ رہا تھا کہ خبر دار جو آئندہ تم نے مجھ سے اس طرح بات کی میں تمہارا خاوند نہیں ہوں۔خبر دار میں خاوند نہیں ہوں تمہارا جو تم مجھ سے اس طرح بد تمیزی کرواس کارٹون میں ایک نکتہ ہے اس کو سمجھنا چاہے واقعہ یہ ہے کہ جس گھر میں عورتیں خاوندوں سے بدتمیزی کریں اور خاوند عورتوں سے بدتمیزی کریں ان کے بچے ضرور بدتمیز ہوں گے۔جہاں بات بات پر جھگڑے ہوں اور بداخلاقی سے کام لئے جائیں اور گالی گلوچ ہو وہاں ایسے ہی بچے پیدا ہوں گے جوسر اٹھا کر کہیں گے کہ میں تیرا خاوند نہیں ہوں جو تم مجھ سے بدتمیزی کر رہی ہو۔تو احترام قائم کریں اور احترام قائم کرنے کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ ادب سے بولیں۔احترام قائم کرنے کے بہت سے ذرائع ہیں۔حکمت کا کام ہے۔اگر ضرورت سے زیادہ ادب سے بولیں گے تب بھی آپ بچوں کو خراب کر دیں گے۔احترام قائم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی کے گھر جاتی ہیں بچوں سمیت اور بچے وہاں تو ڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں۔زلزلہ لے آتے ہیں اور میزبان بیچارہ شرم کے مارے کہ کچھ نہیں سکتا۔آپ ہیں کہ احترام کئے جا چلی جارہی ہیں احترام کئے چلی جارہی ہیں کہ نہیں جناب آپ اس طرح کی حرکت نہ کیجئے آپ اس طرح نہ کیجئے احترام کے بھی مواقع ہوتے ہیں۔نظم وضبط کے قیام کے بھی مواقع ہوتے ہیں۔سر منہ ہونا اور تادیب کرنا یہ احترام کے خلاف نہیں ہے۔احترام کی حدود کے اندر احترام ہونا چاہئے۔احترام کا طریق یہ ہے کہ بچے کو اس طریق پر سمجھایا دیا جائے کہ یہ میں نہیں ہونے دوں گی۔یہ بدتمیزی ہے تمھیں کوئی حق نہیں ہے کہ تم دوسروں کے گھر جا کر ایسی بے ہودگیاں کرو اور ساتھ اس کے بعد محبت سے پیار سے سلوک کر کے اس کی دلجوئی بھی کر لینا یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعے بچے نظم و ضبط میں رہیں گے ورنہ میں نے دیکھا کہ بعض ایسی خواتین ہمارے گھر میں بھی کئی دفعہ آتی تھیں تو بی بی کو میں کہا کرتا تھا کہ سب چیزیں سمیٹ لوور نہ کچھ نہیں رہے گا باقی اور واقع ہی میز بان مجبور ہوتا ہے کچھ کہہ نہیں سکتا۔اور وہ بیٹھی دیکھ رہی ہیں مائیں پروا ہی نہیں ہے کہ بچہ کیا حرکت کر رہا ہے۔اپنے گھر میں بعض مائیں تادیب کرتی ہیں اور یہ جو تضاد ہے یہ اولا دکو بگاڑ دیتا ہے میں نے ایسی ماؤں کے بچے دیکھے ہیں جو دوسروں کے گھر میں زلزلہ برپا کر دیتے ہیں اور اپنے گھر میں ہر چیز حفاظت سے رکھتے ہیں۔وہاں