اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 290 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 290

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۹۰ خطاب ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۲ء پس یہ دوسرا پہلو عورت کی مالی قربانی کا یہ ہے کہ ان کی قربانیاں جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوتی ہیں تو وہ زندہ جاوید بنادی جاتی ہیں۔زندہ جاوید اس طرح نہیں کہ ان کا ذکر چلتا ہے بلکہ اس طرح کہ وہی قربانیاں ہیں جو آئندہ نسلوں میں سرایت کرتی چلی جاتی ہیں۔آج جو آپ لوگوں کو خدا کے حضور غیر معمولی قربانیوں کی توفیق مل رہی ہے اس میں یقیناً ان ماؤں ،ان دادیوں کا دخل ہے، جنہوں نے چار چار آٹھ آٹھ آنے کی قربانیاں اس طرح پیش کیں گویا اپنا لہو پیش کر رہی ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اس لہو کو ایسے رنگ لگائے کہ آج تمام دنیا میں خواتین عظیم قربانیاں پیش کر رہی ہیں اور بڑے بڑے کام ان کی قربانیوں کے نتیجے میں خدمت دین کے لئے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس جذ بے کو ہمیشہ سلامت اور دائم اور قائم رکھے۔ملکانہ کا زمانہ جو شدھی کا دور تھا ہندوستان میں ایک وقت ایسا آیا تھا کہ ہندؤں نے بڑے وسیع پیمانے پر راجپوت مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک شروع کی۔باقی مسلمان تو اشتعال انگیز تقریریں کرتے رہے۔بڑے بڑے دعوے کرتے رہے، جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مصلح موعود کی تحریک پر کثرت کے ساتھ احمدیوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ، وہ اپنے خرچ پر جائیں گے اور اپنے خرچ پر رہیں گے۔اور وہاں کی غربت کے حالات کی وجہ سے یہ بھی ضرورت تھی کہ کچھ کپڑے پیش کئے جائیں تو احمدی خواتین نے وہاں کی مسلمان بہنوں کو ہندوں کی لالچ سے بچانے کے لئے اپنے کپڑے دئے ، اپنے دوپٹے دئے۔ایک مؤرخ احمدیت لکھتے ہیں کہ جب عورتیں دوپٹے پیش کر رہی تھیں یعنی ایسا غربت کا دور تھا کہ ۲۰ دوپٹے پیش ہوئے تو اس کا اخباروں میں اشتہا رنکل آیا۔الفضل میں یہ بات شائع ہوگئی کہ قادیان کی احمدی خواتین نے ۲۰ دوپٹے پیش کئے ہیں۔آج آپ کے لئے دوپٹے ، چنیوں کی حیثیت ہی کوئی نہیں ہے۔بلکہ بعض بے چاریاں تو ضرورت بھی نہیں سمجھتی اس کی۔لیکن اس زمانے میں ۲۰ دوپٹے پیش کرنا بڑی بات تھی۔اور اس میں ہماری ہمشیرہ امتہ القیوم کا بھی ذکر آیا ہوا ہے کہ انہوں نے وہ چھوٹی سی تھیں۔انہوں نے چھوٹی سے چینی پیش کر دی کہ کسی ملکانی عورت کی بچی کو میری طرف سے یہ پیش کر دینا۔اب میں آپ کو بتا تا ہوں کہ مساجد کی تعمیر میں احمدی خواتین نے کتنا عظیم کردار ادا کیا ہے اور یہ ذکر جرمنی سے چلتا ہے اور اس لحاظ سے جرمنی میں اس کا ذکر کرنا مناسب حال ہے۔جب سے پہلے برلن مسجد کی تحریک ہوئی ہے۔تو حضرت مصلح موعود نے احمدی خواتین سے کہا کہ میں چاہتا