اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 289
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۸۹ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء پھر جو کچھ ہاتھ آتا ہے قربانیوں کی تحریکوں کے وقت بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ایک ایسی ہی خاتون کا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ذکر فرمایا تھا جب آپ نائیجیریا کے دورہ پر گئے تو آپ نے بیان کیا کے میرے علم میں افریقی ممالک کا کوئی اکیلا مرد ایسا نہیں ہے جس نے بیک وقت ۲۵/۳۰ ہزار پونڈ چندہ دیا ہو۔لیکن جب افریقہ کے دورہ پر نائیجیریا میں میں نے تحریک کی کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایک احمد یہ ریڈیو اسٹیشن قائم کیا جائے تو ایک عورت نے اکیلی نے ۳۰/ ۲۵ ہزار پونڈ اس میں چندہ پیش کیا۔تو دنیا بھر میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو رہا ہے۔احمدی خواتین غیر معمولی قربانیاں پیش کر رہی ہیں اور جماعت جو ہر جگہ ترقی کر رہی ہے اس میں ان قربانیوں کا دو طرح سے دخل ہے۔اول تو مالی ضروریات کا اس زمانے میں مہیا ہو جانا کہ کسی جگہ بھی تنگی محسوس نہ ہو۔یہ اللہ کا غیر معمولی فضل ہے اور دنیا کی کسی اور قوم میں ایسی مثال دکھائی نہیں دیتی۔میں نے بارہا اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب بھی میں نے کوئی تحریک کی ہے۔کسی دینی کام کے لئے ضرورت پیش آئی ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مجھے فکر ہو کہ اب یہ کام کیسے چلے گا۔اللہ تعالیٰ ضرورت سے زیادہ ہی مہیا فرما تا رہا ہے۔یورپین مراکز کے لئے جو میں نے تحریک کی تھی اس میں عورتوں نے کس طرح قربانی کی اس کے نمونے میں آپ کے سامنے پڑھ کر سناؤں گا۔اس سے آپ کو انداز ہوگا که احمدی خواتین اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیکی کے کاموں میں تمام دنیا کی خواتین سے آگے ہیں۔حضرت مصلح موعود پرانے زمانے کا ذکر فرماتے ہیں جب کہ بہت زیادہ ابھی غربت تھی۔کہتے ہیں ایک بڑھیا خاتون نے جس کا خاوند فوت ہو چکا تھا، حضور کی تحریک پر باوجود غربت کے وعدہ کیا کہ آٹھ آنے ماہوار ادا کروں گی آپ اندازہ کریں اس وقت آٹھ آنے کی کیا قیمت ہے اس وقت اور اس زمانے میں آٹھ آنے ماہوار ادا کرنا اس کے لئے اتنا مشکل تھا کہ چند مہینے اس نے آٹھ آنے ماہوار ادا کئے اور اس کے بعد پھر بے قرار ہوگئی کہ ایک سال لگے گا مجھے وعدہ پورا کرتے ہوئے۔حضرت مصلح موعود کی خدمت میں باقی پیسے پیش کرتے ہوئے اس نے کہا کہ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خواہ فاقے کرنے پڑیں میں اکٹھا دوں گی۔وہ آٹھ آنے بچانے کے لئے اس عورت کو واقعہ فاقے درپیش تھے تو بظاہر یہ ایک بہت معمولی قربانی تھی لیکن وہ جذبہ، وہ اخلاص ، وہ حیرت انگیز اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر اپنے اموال پیش کرنا یہ وہی ہے جو آج ساری جماعت کے کام آ رہا ہے۔