اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 253

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۵۳ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء ہیں ایسی مائیں ہمیشہ جھوٹی نسلیں پیدا کرتی ہیں اوروہ بچے کبھی بھی اپنی ماؤں کی باتیں نہیں مانتے بلکہ غیر شعوری طور پر انہیں دوسروں کو دھوکہ دینے کے سبق مل جاتے ہیں۔بعض دفعہ مائیں خود نیک بھی ہوں لیکن وہ بجھتی ہیں یہ تو گناہ ہی کوئی نہیں ، بچے کو ٹالنا معمولی بات ہے یا بچے سے کوئی وعدہ کیا اور اسے جھٹلا دیا تو اس میں کوئی خاص بڑی بات نہیں ہے۔بچوں کے ساتھ تو اسی طرح ہوا کرتا ہے اور وہ نہیں جانتیں کہ وہ بچے کا مستقبل خود اپنے ہاتھوں سے ہمیشہ کیلئے برباد کر دیتی ہیں۔ایک دفعہ ایک چھوٹا سا نظارہ میں نے اس طرح دیکھا کہ ایک باپ نے اپنے بچے کو پونڈے گنے کا ایک ٹکڑا دیا ہوا تھا ( نصف یا چوتھا حصہ ) اور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وہ ماں بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔اس نے دیکھا کہ بچے سے سنبھالا نہیں جاتا تو اس نے کہا کہ بیٹا یہ مجھے پکڑا دو۔میں اوپر جا کر تمہیں واپس کر دوں گی۔اس نے کہا جائیں جائیں میں نے دیکھا ہوا ہے آپ کو، او پر پہنچتے پہنچتے آدھا کھا جائیں گی آپ۔اب یہ بات چھوٹی سی ہے لیکن آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس رد عمل نے میرا دل ہلا دیا۔مجھے خطرات نظر آئے سامنے کہ اس بچے کا مستقبل شاید ٹھیک نہ رہے کیونکہ جو اپنی ماں پر اعتماد نہیں کر سکتا وہ دوسروں پر کیسے اعتما دکرے گا۔پس ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں آپ جنت بھی پاتی ہیں اور جہنم بھی پاتی ہیں۔آپ کو اختیار ہے جہنم کو قبول کر لیں یا جگت کو قبول کر لیں۔پس آئندہ کی قوم آپ کے پاؤں سے وابستہ ہو چکی ہے، آئندہ کی نسل آپکے قدموں سے وابستہ ہو چکی ہے اس کیلئے اس دنیا میں جنت چھوڑیں تو دیکھیں کہ یقینا اللہ کے فضل کے ساتھ ان کی اخروی جنت کی بھی ضمانت مہیا ہو جائے گی۔یہ چند پہلو ہیں جن کی اور بھی بہت سی شاخیں ہیں اور یہ مضمون ایسا ہے جو بڑی تفصیل کا محتاج ہے تا کہ مثالیں دے دے کر آپ کو سمجھایا جائے کہ کہاں کہاں ٹھوکر کا مقام ہے۔کہاں کہاں بچنے کی ضرورت ہے۔کس طرز عمل کو اختیار کیا جائے مگر میں امید رکھتا ہوں کہ ان چند مثالوں سے آپ اس مضمون کو سمجھ گئی ہوں گی کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں واقعہ جنت یا جہنم ہوتی ہے۔میں نے بعض ماؤں کو بچوں کو ڈراتے ہوئے دیکھا ہے اور میں بڑی سختی سے اپنے گھر میں یہ بات قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں سختی سے مراد یہ ہے کہ FIRMNESS کے ساتھ ،شدت کے ساتھ نہیں یا سزادے کر نہیں کیونکہ مجھے یاد نہیں کہ شاید ہی کبھی زندگی میں ایک دومرتبہ کسی بچے کو سزادی ہو ورنہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ بچے کے ساتھ اگر تمہارا اعتماد کا رشتہ قائم ہو جائے اور پیار کا رشتہ قائم ہو جائے تو تمہاری نظروں کے حلقہ سے تغیر میں بچہ اتنی سزا پا جاتا ہے کہ اسے کسی اور سزا کی ضرورت نہیں رہتی تو میں نے