اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 252
حضرت خلیفتہ اسے الرابع" کے مستورات سے خطابات اسم ۲۵۲ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء انصاف پیدا کرتی ہے اس کے اندر توازن پیدا کرتی ہے، وہ حقیقت میں مستقبل کیلئے جنت پیدا کر رہی ہوتی ہے۔جو ماں اپنی اولاد کو صرف محبت دیتی ہے اور اس محبت کے نتیجہ میں وہ بجھتی ہے کہ اس نے اسے سب کچھ دے دیا وہ ایک غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ایسی محبتیں جو محض محبت کا رنگ رکھتی ہوں ان میں نظم و ضبط کی کوئی رگ شامل نہ ہو، جن میں مضبوط تقاضے نہ ہوں ، جن میں توازن کے مطالبے نہ ہوں ایسی محبتیں اولاد کے فائدے کی بجائے اسے نقصان پہنچا دیتی ہیں لیکن اس سے بہت بڑھ کر ایک نقصان عورت کا اپنی ذات میں مگن ہونے کا نقصان ہے اور یہ وہ نقصان ہے جو نئے تقاضوں کے نتیجہ میں دن بدن زیادہ ہو کر دکھائی دینے لگا ہے۔اگر کوئی عورت سنگھار پٹار کرتی ہے سوسائٹی میں جاتی ہے، کچھ دل کے بہلانے کے سامان کرتی ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ بی بی ذرا سنبھل کر چلو تو کہے گی یہ چھوٹی موٹی باتیں ہیں میں نے کونسا گناہ کیا ہے کیا میری زندگی کو تم عذاب بنا دو گے لیکن درحقیقت یہ چھوٹی موٹی باتیں بہت بڑی بڑی باتیں بعض دفعہ پیدا کر دیا کرتی ہیں۔ایسی اولا دجس کی ماں کو اور جس کے باپ کو اپنی لذتوں کی تلاش اتنی ہو جائے کہ وہ اس کی زندگی کے روز مرہ کے انداز پر غالب آجائے ایسی مائیں بسا اوقات اپنے بچوں کی تربیت سے غافل ہو جاتی ہیں۔آتی ہیں کبھی باہر وقت گزار کر تو یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ بچے اپنے کمرے میں موجود ہیں کہ نہیں ، کچھ ان کی فوری ضرورتیں ہوئیں تو وہ پوری کر دیں، کوئی بیمار ہوا تو اس کا علاج کیا لیکن پھر گلے سے اتار کر اپنے علیحدہ کمروں میں غائب ہو گئیں اور صبح اٹھ کر نئے سوشل پروگرام بنائے گئے اور نئی لذتوں کی تلاش کی گئی۔ایسی ماؤں کی نظریں پہلے بدلتی ہیں پھر اولاد کی نظریں بدلا کرتی ہیں۔اولا د کو خدا تعالیٰ نے بہت ہی فراست عطا فرمارکھی ہے۔جن بچوں نے اپنی ماؤں کو ایک خود غرضی کی حالت میں زندگی بسر کرتے دیکھا ہو وہ لازماً خود غرض بن کر بڑے ہوتے ہیں اور بچپن سے ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ میری ماں مجھ پر احسان کرنے والی ہے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میری ماں نے اپنی مرضی سے جب اس نے چاہا، جب اس کو خواہش پیدا ہوئی مجھ سے پیار کیا لیکن میری ساتھی نہ بنی۔مجھے اس نے رفاقت عطا نہیں کی۔مجھ سے ایسا تعلق قائم نہ کیا کہ مجھے اس کے ساتھ بیٹھنے کا مزہ آئے اسے میرے ساتھ بیٹھنے کا مزہ آئے۔پس اسی وقت سے اس بچے کا مستقبل گھر کی بجائے گلیوں سے وابستہ ہونے لگتا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ جو ٹلانے کی باتیں ہیں یہ بھی بظاہر چھوٹی ہیں لیکن بہت گہرے اور لمبے نقصانات پیدا کرتی ہیں۔ایسی مائیں جو اپنے بچوں کو چپ کرانے کی خاطر جھوٹ بول دیتی ہیں یا ساتھ نہ لے جانے کیلئے بہانہ بنادیتی