اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 238

حضرت خلیفہ المسح الرابع ” کے مستورات سے خطابات ۲۳۸ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء کہتی ہیں ابا نہیں ، بالکل بھوک نہیں ہے۔میں کہتا ہوں یہ تو جھوٹ ہے کہ بھوک نہیں تم نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ نہیں کھانا مگر چلو میری خاطر آخر بڑے نخروں کے بعد وہ مان جاتی ہیں کہ اچھا آپ کی خاطر تھوڑا سا چکھا دیں۔وہ تھوڑا سا چکھتیں ہیں پھر اُن کو مزا آتا ہے تو پھر میں ان کو تھوڑا سا اور چکھا دیتا ہوں۔تو نصیحت میں بھی یہی طریق ہے کوئی الگ طریق نہیں ہے۔انسانی فطرت تو وہی ہے جو باپ بیٹی کے تعلقات میں ہے، وہی ماں بیٹیوں کے تعلقات میں ہے، وہی ایک صدر کی اپنی لجنات کے تعلقات میں ہے۔فطرت انسانی تو نہیں بدلا کرتی اس طریق سے آپ نصیحت کر کے دیکھیں پھر دیکھیں کہ کیسی کیسی پاکیزہ اور عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔مردوں پر تبصرے کر نالجنہ کا کام نہیں دوسری بات جو انہوں نے کہی جس سے مجھے بطور خاص تکلیف ہوئی وہ یہ تھی کہ اُٹھ کر مردوں پر تبصرے شروع کر دئے کہ ہم کیا کریں ہم کس طرح کامیاب ہو سکتی ہیں لجنات جبکہ مرد ہم سے تعاون نہیں کرتے۔اب مجلس شوری میں یہ بات بڑی بے ہودہ لگتی ہے، بے تعلق ہے، بے جا ہے اور پھر یہ ایسی بات تھی جو خود مجھ سے وہ کہہ چکی تھیں۔انہوں نے اپنی ایک مجلس کی میٹنگ میں مجھ سے کہی اور میں نے اس بات پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا اُن کو سمجھایا کہ بی بی اس طرح نہیں کرنا۔اگر کوئی مرد تعاون نہیں کرتا تو آپ کیا کر سکتی ہیں۔آپ نے اپنا فرض ادا کیا اب اس بات کو چھوڑ دیں۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت عے کو بھی یہی فرمایا ہے کہ تو نصیحت کر تیرا کام نصیحت کرنا ہے۔کوئی نہیں سنتا تو اس کا نقصان ہے۔آگے بڑھ بڑھ کر اس کے خلاف باتیں کرنا کہ اس کا خاوند تعاون نہیں کرتا ، اس کا بھائی تعاون نہیں کرتا ، اس کا بیٹا تعاون نہیں کرتا، یہ لجنہ کا کام ہی نہیں ہے نہ نصیحت کرنے والے کو ویسے زیب دیتا ہے۔سب کچھ سمجھا چکا تھا اس کے باوجود اس دن شوری میں اٹھ کر یہی بات اُسی تلخی کے ساتھ دہرائی۔میں ساری Cassetes کی ریکارڈنگ سن چکا ہوں اب وہ لکھتی ہیں کہ میرا قصور تو بتایا جائے کہ میرا قصور کیا تھا۔تو جس حد تک اُن کا قصور ہے میں آپ کو بتادیتا ہوں اس میں وہ معذور ہیں۔اس قصور میں ان کا قصور کوئی نہیں۔ان معنوں میں کہ اُن کو میری باتیں سمجھ ہی نہیں آئیں۔بار بار سمجھانے کی کوشش کی پتہ ہی نہیں کہ تربیت ہوتی کیا ہے۔خدمت جتنی چاہیں کریں قربانی جتنی چاہیں دیں، جب اس کو پھل ہی نہیں لگنے تو ہم کیسے اس صدر کو رکھ سکتے ہیں۔