اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 20

حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۸۳ء ہے کہ مجھے یقین ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل جیسے نازل ہورہے ہیں اس سے بڑھ کر آئندہ بھی نازل ہوتے رہیں گے اور جماعت احمدیہ کی خواتین کو ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر خدمت دین کی توفیق نصیب ہوتی رہے گی۔پاکستان سے جو اطلاعیں ملتی رہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچیاں جو پہلے برقعے کے خیال سے شرماتی تھیں انہوں نے بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ برقعے کو اوڑھا اور بعض بچیوں نے مجھے لکھا کہ پہلے کبھی مجبور ابرقع پہنا پڑتا تو شرم سے سر جھکا کر چلا کرتی تھی۔اب میں برقع پہن کر سر اٹھا کر چلتی ہوں غیروں میں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ان کے طعنوں کی۔میں ان کو یہ جواب دیتی ہوں کہ تمہاری نظر میں میں پسماندہ ہوں لیکن اپنے رب کی نظر میں میں ترقی یافتہ ہوں اور تم سے بہت آگے ہوں۔یہ واقعہ ایک جگہ نہیں ہوا دو جگہ نہیں ہوا ، مشرق میں نہیں ہوا مغرب میں نہیں ہوا بلکہ سارے عالم میں اسی قسم کے واقعات رونما ہوئے۔یہاں تک کہ امریکہ کا وہ شہر جو د نیا کونگ سکھانے میں سب سے آگے ہے، یعنی Los Angleas لاس انجلیس “ جو تمام بے حیاؤں کی آماجگاہ ہے۔وہاں سے بے حیائیاں پھوٹتی ہیں اور ساری دنیا ان کے پیچھے چلتی ہے۔دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری وہاں ہے۔وہاں ایک رات میں ۳۰ احمدی خواتین نے راتوں رات برقعے سے اور صبح وہ برقع پہن کر باہر نکل گئیں اور ان تجربوں کے نتیجے میں جو غیر ممالک سے خط آرہے ہیں بہت ہی حوصلہ افزاء ہیں۔بعض جگہ احمدی خواتین نے لکھا کہ ہم نے جب برقع شروع کیا تو کچھ دیر کے بعد غیر مسلم خواتین نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہاں ہم تسلیم کرتی ہیں کہ تمہارا معاشرہ ہم سے بہتر ہے اور تمہارا کردار ہم سے بہتر ہے۔ایک کالج کی لڑکی نے جو نو مسلم ہے امریکہ کی خاتون ہے اس نے مجھے لکھا کہ جب مجھے آواز آئی ساتھ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جو دوسرے معاشرے میں بسنے والے لوگ ہیں وہ صرف چادر سنبھال کر اوڑھ لیں تو بہت کافی ہو گا ضروری نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں رائج برقع ہی پہنیں۔غیر قوموں میں سے آنے والوں کے لئے برقعے کی ابتدائی شکل یا پردے کی ابتدائی شکل ہی کافی ہے۔اس نے مجھے لکھا کہ یہ سب باتیں مجھے معلوم تھیں لیکن جب میں نے احمدی خواتین کو جو پاکستان سے آئی ہوئی تھیں برقع پہنے دیکھا تو میں نے کہا کہ میں کیوں پیچھے رہ جاؤں۔چنانچہ ایک دن میں کالج میں برقع پہن کرگئی اور مجھ پر بہت انگلیاں اُٹھیں۔یہاں تک کہ اس دن ہمارے لیکچرار نے مجھے نشانہ بنایا اور کہا تمہیں کیا ہو گیا ہے تمہارا سر پھر گیا ہے؟ کیا واقعہ ہوا ہے آج۔کہتی ہیں جب میں نے سنایا کیا واقعہ ہوا، جب میں نے تفصیل بیان کی تو سارے نہ صرف مطمئن ہوئے بلکہ وہ کہتی ہیں کہ اب میں اس کالج میں سب سے زیادہ معزز لڑ کی