اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 231
حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” کے مستورات سے خطابات خلیفہ المسیح صلى الله ۲۳۱ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء گھونٹ نہیں بھرتے۔وہ لوگ جو ہلاک ہور ہے ہیں اپنے ارادے سے اپنی غلطیوں سے تو ان کے غم میں کیوں اپنے آپ کو ہلاک کئے جاتا ہے۔یہ کوئی ایسی تنقید نہیں ہے خدا کی طرف سے کہ جس کے متعلق یہ کہا جائے کہ نعوذ باللہ آنحضرت یہ غلطی کر رہے تھے اور خدا نے سمجھایا اور روک دیا۔یہ ایک پیار اور محبت کے اظہار کا ایک حیرت انگیز طریق ہے جو فصاحت و بلاغت میں آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔یہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعریف ہے اور یہ پیغام دنیا کو دیا جارہا ہے کہ جو سب سے زیادہ پاک تھا ، جو سب سے زیادہ معصوم تھا، جو سب کا ئنات کا سردار بنایا گیا تھا اُس کا دل چھوٹوں کے لئے اور اُن لوگوں کے لئے بھی جو ہدایت سے دور بھاگتے ہیں، اتنا نرم ہے کہ اُن کے لئے وہ سخت غم محسوس کرتا ہے۔نصیحت میں دل کے درد اور سوز کی اہمیت پس یہ مسئلہ ایسا ہے جو سب سے زیادہ عورت کو سمجھنا چاہئے کوئی مرد اگر نہ سمجھ سکے تو وہ معذور خیال کیا جا سکتا ہے لیکن عورت تو ماں ہوتی ہے۔عورت سے بڑھ کر کون اس مسئلے کو سمجھ سکتا ہے کہ جب اُس کے بچے غلطی کرتے ہیں تو اس کی نصیحت میں خشکی اور سختی نہیں ہوا کرتی بلکہ دل کا در داور سوز شامل ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماں کی نصیحت سے بڑھ کر اور کوئی نصیحت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ایک بددعا ہے اس سے ڈرو وہ ضرور قبول کی جائے گی وہ ماں کی دعا اپنی اولاد کے خلاف ہے۔اس میں یہ حکمت کا راز ہمیں سمجھایا گیا کہ سوائے اس کے کہ کوئی ماں بے انتہا مجبور ہوگئی ہو بار بار مظالم کا نشانہ بنی ہو اس کے دل سے اپنی اولاد کے لئے بددعا پھوٹ ہی نہیں سکتی۔اس لئے آنحضرت ﷺ نے یہ عظیم حکمت کی بات بتائی اور یہ حدیث قدسی ہے کیونکہ جو بات خدا کی طرف منسوب کر کے آپ فرمایا کرتے تھے اس کے متعلق یہ مسلمہ اصول ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت کے تابع یہ بات کہا کرتے تھے۔اپنی طرف سے کوئی اندازے لگا کر باتیں نہیں کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خود فر مایا کہ ماں کی بد دعا سے اولادکو ڈرنا چاہئے کیونکہ ماں اپنی اولاد کے لئے بد دعا کر ہی نہیں سکتی سوائے اس کے کہ بے حد مجبور ہو گئی ہو سخت تکلیف میں ہو۔اس کے متعلق ایک مثال ایسی آتی ہے جو ہے تو فرضی لیکن اس مضمون کو واضح کرنے کے لئے بہت عمدہ مثال ہے اور اس سے پہلے بھی میں اپنے بعض خطابات میں بیان کر چکا ہوں۔آپ میں سے بہت سے نئے ہیں اُن تک وہ بات نہیں پہنچی ہوگی اور مضمون سے اس کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ میں سمجھتا ہوں اس کو دہرانے میں حرج کوئی نہیں۔