اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 19
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۹ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء آنحضرت کی خوبصورت عائلی زندگی اور جنت نظیر معاشرت (جلسہ سالانہ مستورات پاکستان سے خطاب فرمودہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۳ء بمقام ربوہ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرَاتٌ (الاحزاب : ۲۲) تمام دنیا سے جو مختلف رپورٹیں موصول ہوتی رہتی ہیں، انفرادی خطوں کی صورت میں بھی اور جماعت کے امراء کی رپورٹوں کی شکل میں بھی ان سے یہ معلوم کر کے دل حمد سے بھر جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی عورت ہر جگہ بڑی تیزی کے ساتھ بیدار ہو رہی ہے۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ رہی ہے اور یہ کہ پہلے سے بہت بڑھ کر اُن ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف توجہ ہے۔گزشتہ سال جو میں نے پردے کی تحریک کی تھی اس تحریک کے نتیجے میں بھی اتنا حیرت انگیز موافق رد عمل کا اظہار ہوا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیسے احمدی عورت کو اتنی عظیم الشان توفیق نصیب ہوئی۔آج تک اس دور میں اور کہیں آپ کو ایسا واقعہ نظر نہیں آئے گا کہ دنیا کے کسی حصے کی عورت جو ایک دفعہ مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر ان کی مفروضہ آزادیوں کی شکار ہو چکی ہو پھر واپس لوٹ آئی ہو۔سارے عالم میں یہ اس دور کا ایک ہی واقعہ ہے کہ احمدی خاتون جو مغربیت سے متاثر ہو کر مغربیت کی اندھی تقلید کی طرف بڑھ رہی تھی ایک اُٹھنے والی آواز کے ساتھ بڑی تیزی کے ساتھ واپس دوڑی اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے امن کے جھنڈے تلے اکٹھی ہوگئی۔یہ ایک اتنی بڑی نیکی ہے، اتنا بڑا اچھا قدم اُٹھایا گیا