اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 215

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۱۵ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء کہ وہ ان بدیوں کے احساس کے ساتھ اپنی زندگی کو تھی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔وہ ایک جھوٹی ملمع کاری کا عادی بن چکا ہوتا ہے۔وہ اس بات کا عادی بن چکا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں کے طور پر ایک خوبصورت حسین دلکش وجود کے طور پر پیش کرے جو دوسروں سے بہتر ہے۔اگر وہ اپنی بدیاں خود تلاش کرے اور پتہ لگ جائے کہ میں ہوں کون اور کتنے پانی میں ہوں تو اس کا یہ لذت یابی کا پروگرام منقطع ہو جاتا ہے پھر وہ کبھی بھی دوسروں کے مقابل پر اپنی حمد کے خود گیت گانے کے اہل نہیں رہتا۔ایک شعر میں نے بہادر شاہ ظفر کا بارہا سنایا ہے۔یہ شعر بہت ہی پر لطف اور گہرا شعر ہے اسے میں بار بار سناؤں تو تب بھی نہیں تھکتا وہ یہ کہتا ہے : تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر ہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا ایک ایسا دور بھی ہماری زندگی میں گذرا ہے کہ ہمیں اپنے حال کی خبر نہیں تھی اور جب ہمیں اپنے حال کی خبر نہیں تھی تو ہماری تمام تر تو جہات لوگوں کی بدیاں معلوم کرنے کی طرف تھیں۔ہم ڈھونڈتے رہتے تھے فلاں میں کتنی برائیاں ہیں، فلاں میں کتنی برائیاں ہیں۔ایک بیرونی نظر تھی جو روشن تر ہوتی جارہی تھی اور ایک اندرونی نظر تھی جو دن بدن اندھی ہوتی چلی جارہی تھی اور اپنے حال سے ہم بالکل غافل ہو گئے تھے۔یہاں تک کہ ایک دن ہم جاگ اُٹھے، ہمیں ہوش آگئی اور ہم نے اپنی برائیوں کی تلاش شروع کی اور اس تلاش کے دوران میں ہم نے یہ دریافت کیا کہ ہمارے سوا کہیں بدیاں موجود نہیں۔غیروں کی بدیاں تلاش کرنے کی ہوش ہی باقی نہ رہی۔تو انسان کی دود نیائیں ہیں، ایک باہر کی دنیا ہے اور ایک اندر کی دنیا ہے۔باہر کی دنیا کو روشن کرنے کی تمنار کھنے والے لوگ بسا اوقات اس فرض سے غافل رہتے ہیں کہ جب تک ان کے اندر کی دنیا روشن نہ ہو وہ باہر نور پھیلا سکتے۔ناممکن ہے جتنی چاہیں آپ فرضی باتیں کر لیں، جتنی چاہیں آپ تقریریں کرلیں لوگوں کو بتائیں کہ اسلام کے کیا محامد اور محاسن ہیں۔لوگوں کو یہ بتائیں کہ یہ مذہب دنیا میں سب سے زیادہ حسین مذہب ہے۔جب تک آپ کی ذات میں اس مذہب کا حسن اور اس مذہب کی روشنی لوگوں کو دکھائی نہ دے گی کبھی دنیا آپ کی باتوں کو قبول نہیں کرے گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا: