اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 149
حضرت خلیل مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۴۹ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء پھر فرمایا ؤ لَا تَجَسَّسُوا ہر انسان کے لئے اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ستاری کا پردہ رکھا ہوا ہے، جب اس کی برائی اچھل کر معاشرے کے سامنے آجائے تو ضروری ہے کہ اس کو پکڑا جائے ، برائی کرنے والے کو یا سمجھایا جائے یا اگر وہ سزا کا حقدار ہو گیا ہے تو سزادی جائے لیکن اس کے باجود بہتیرے گناہ گارایسے ہیں اور شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جس پر اس آیت کا اطلاق نہ ہوتا ہو کہ جن کے گناہوں پر خدا نے پردہ ڈالا ہو لیکن لوگوں نے تجسس کر کے ان کی کمزوریاں نکالیں اور معاشرے میں اچھال دیں یہ وہ جرم ہے جس کو خدا تعالی سختی سے منع فرماتا ہے۔فرماتا ہے اگر تم تجسس کرو گے ،اگر تم اپنے بہن بھائیوں کے اور اپنے عزیزوں کے نقائص تلاش کرو گے اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کو نکالو گے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پھر اللہ تعالیٰ تم سے اپنی ستاری کا پردہ اٹھالے گا اور سارا معاشرہ دکھوں میں مبتلا ہو جائے گا۔بہت سارے ایسے خاندان اجڑے ہیں کیونکہ میری نظر بعض قضیوں پر ہے اس لئے میں عملاً انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بہت سے خاندان ایسے گذر چکے ہیں کہ جہاں اگر تجسس نہ اختیار کیا جاتا تو بعض کمزوریاں کسی بچی کی یا کسی مرد کی اپنی جگہ ڈھکی رہتیں اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دیتا اور ان کی اصلاح کر دیتا لیکن تجس کے نتیجے میں جب وہ ٹنگی کی گئیں تو دوسری طرف سے پھر بغاوت کا سلوک ہوا اس میں بعض دفعہ معاشرے کے خلاف بغاوت کی اور رفتہ رفتہ معاملہ ہاتھ سے نکل گیا۔تجس کی عادت بھی آپ کو ترک کرنا چاہئے۔وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا اور کوئی اور کسی کے خلاف ایسی باتیں نہ کریں کہ یک طرفہ حملہ ہو اور اس کو پتہ ہی نہ ہو کہ مجھ پر کیا حملہ ہو رہا ہے یہ آخری خلاصہ ہے معاشرے کی اصلاح کے لئے جس کی طرف آپ کو غیر معمولی توجہ کی ضرورت ہے۔غیبت کی عادت کے متعلق میں نے بارہا خطبات دیئے مگر مجھے افسوس ہے کہ یہ وہ عادت ہے اور چسکا ہے جس کو آپ لوگ چھوڑ نہیں سکتے جس طرح Drug Addicts ہوتے ہیں اسی طرح عورتوں میں خصوصیت کے ساتھ غیبت کی عادت ہوتی ہے، ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا جب تک کسی اور بہن کے خلاف بات نہ کر لیں۔جب بیٹھتی ہیں اس وقت کوئی باتیں کر رہی ہوتی ہیں ایک دوسرے کے متعلق۔مجھے اپنے گھر میں بھی تجربہ ہے، جب میری بیوی مجھے بتاتی ہے بعض دفعہ کھانے پہ کہ فلاں عورت میں یہ کمزوری ہے اور فلاں میں یہ تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آج آپ سے کون ملنے آیا تھا اور وہ نہ بتا ئیں تو میں کہتا ہوں کہ اب آپ کا فرض ہے مجھے بتانا۔آپ کا کوئی حق نہیں کہ یک طرفہ کسی احمدی خاتون کی بچی کے متعلق یہ بات کریں، صاف پتہ لگ جاتا ہے، بعض دفعہ مجھے یقین ہو جاتا ہے