امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 90 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 90

ہیں کہ جو زندہ رہے ، وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے اور جو ہلاک ہو وہ بھی دلیل سے۔علامہ نسفی لکھتے ہیں ہلاکت اور زندگی کفر و اسلام سے استعارہ ہے معنوی، ذہنی اور روحانی زندگی مراد ہے۔مطلب یہ ہے کہ جس سے کفر صادر ہے وہ بھی دلائل سے ہو۔کوئی شبہ نہ رہے اور جس نے اسلام قبول کرنا ہے وہ بھی دلائل سے قبول کرے۔مدارک التنزيل جلد 1 صفحه 618 زیر آیت انفال: 44) تفسیر مظہری جلد 4 صفحہ 96 از قاضی محمد شاء اللہ عثمانی دہلی ، معارف القرآن جلد 4 صفحہ 245 زیر آیت الانفال 44 اور تفسیر بیضاوی جزء اول صفحہ 330 کے حوالہ جات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت میں موت وحیات کے ظاہری معنی مراد نہیں بلکہ معنوی طور پر ہلاکت و زندگی مراد ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے دوسری جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ إذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال:24) یہ تو وہ کتب ہیں جو سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہیں۔شیعہ مکتبہ فکر بھی ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے۔چنانچہ تفسیر صافی کی جلد اول صفحہ 670 میں زیر بحث آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ہلاکت اور حیات کو معنوی رنگ میں کفر و ایمان سے مناسبت ہے۔(تفسیر صافی جلد اوّل صفحه 670 مطبوعه 1933ء) تیسری آیت سورۃ انعام :150 کے ضمن میں ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا منشاء یہ ہے کہ عقلی و نقلی دلائل کو اور سابقہ واقعات کو ملا کر موازنہ کر کے دیکھا جائے گا محض خیالی نظریات اور باپ دادے کے طریق کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جائے گا۔(تفسیر المنار از سید محمد رشيد رضا جلد 8 صفحه 178 طبع اولی مصر) چوتھی آیت سورۃ الصفت : 158 کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ قرآن کریم نہ صرف خود اپنی صداقت کی دلیل دیتا ہے بلکہ اس سورت میں کفار کے اس اعتراض پر کہ 90