امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 81 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 81

ایسے لوگوں کے بارہ میں بھی رضی اللہ عنہ کا لفظ موجود ہے جن کو اپنے وقت کے اقتدار اعلیٰ نے کافر اور غیر مسلم کہا۔مولانا عبد اللہ غزنوی کو کابل کے حکمرانوں نے کافر قرار دیا اور قتل تک کا فتویٰ جاری کیا اور ان کی سوانح عمری کی کتاب میں ان کو رضی اللہ عنہ بھی کہا گیا ہے۔(سوانح عمری مولوی عبدالله الغزنوي المرحوم مجموعه مکتوبات صفحه18) دوسری مثال حضرت محی الدین ابن عربی کی ہے جن پر کفر کا فتویٰ لگا اور رضی اللہ عنہ بھی ان کو کہا گیا۔(انوارا صفیاء صفحه 184 مطبوعه 1967ء ادارہ تصنیف و تالیف) حضرت امام حسین کو بھی اقتدار وقت نے کا فرقرار دیا۔(جواهر الکلام از مرزا حسن صفحه 88 مطبع علمی تبریز ایران) در اصل کا فر ہونا اور بات ہے اور کا فر کہلانا اور بات ہے۔ہمارا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ عامتہ المسلمین ہمارے بزرگوں کو رضی اللہ عنہ کہیں۔ہم تو اپنا یہ حق مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنے بزرگوں کو رضی اللہ عنہ کہنے کا حق دیا جائے۔دستور نے ہمیں غیر مسلم ضرور قرار دیا ہے مگر اس عدالت کے روبرو ہماری بحث یہ ہے کہ ہر چند کہ دستور نے ہمیں غیر مسلم قرار دیا ہے لیکن خدا اور رسول سہمیں اپنے آپ کو مسلمان کہنے اور کہلانے کا حق دیتے ہیں۔ہم دستور کو کالعدم قرار دینے کی بات ہرگز نہیں کر رہے۔دستور میں ترمیم اس وقت کے حکمران نے کی تھی اور اس نے یہ نہیں کہا کہ قرآن وسنت بھی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔اب رسول کا لفظ بھی ایک اصطلاح ہے۔اگرچہ یہ آرڈنینس کے ممنوعہ الفاظ میں شامل نہیں تاہم پنڈت نہرو عرب ملکوں کے دورے پر گئے تو عرب اخبارات نے ان کو سیدنا رسول السّلام“ لکھا۔اب یہ لغوی مفہوم استعمال ہو رہا ہے۔بائبل میں ہے کرنتھیوں کے نام پولوس رسول کا خط۔اب خود عیسائی انہیں اصطلاحی معنوں میں رسول 81