امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 76 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 76

موجود ہے جس کے نیچے Synagogue لکھا ہوا موجود ہے۔تاہم اگر یہ فیصلہ ہو کہ اصطلاحی طور پر مسجد نہیں بلکہ لغوی طور پر مسجد کا استعمال درست ہے تو زیر نظر قانون روح اسلام سے متصادم ٹھہرے گا۔مختلف قرآنی آیات کے یکجائی مطالعہ سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ جہاں خدائے واحد کی عبادت کی جائے وہ مسجد ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے موحد عیسائیوں کو مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دی تھی۔ہم نے سورۃ بقرہ کی آیت 115 وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ۔۔۔۔۔الخ سے استنباط کیا ہے کہ اس میں دنیا بھر کے مذاہب کے معابد کے لئے مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔کیونکہ اسباب النزول میں اس آیت کی شان نزول یہ بیان کی گئی کہ یہ آیت طیطوس رومی اور بخت نصر کے بارہ میں ہے جس نے یہودیوں کے معاہد کو مسمار کیا تھا اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں نہ تھا۔تیسری وجہ نزول مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے حدیبیہ کے مقام پر روکا جانا بیان ہوئی ہے۔اس وقت خانہ کعبہ میں بتوں کی پرستش ہوتی تھی۔مساجد اللہ کے الفاظ میں جو مساجد کا عموم ہے اس کا کسی ایک زمانے پر حصر نہیں کیا جا سکتا۔علامہ رشید رضا نے لکھا ہے کہ:۔مسجد کا لفظ ان لوگوں کی عبادت گاہ کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے جو خالص بت پرست ہیں۔جن مفسرین کے ہم نے حوالے دیئے ہیں وہ اس لحاظ سے زیادہ معتبر ہیں کہ وہ فریق نہیں تھے اور آزادانہ علمی رائے رکھتے تھے۔یہ درست ہے کہ عدالت ان کی رائے کی پابند نہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میری رائے کی تائید میں متقدمین اور متأخرین کے اقوال 76