امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 73
اپنے مذہب کا شعار متعین کرنا ہمارا حق ہے۔ہمارے مذہب کا نام آپ کچھ بھی رکھ دیں۔لیکن اپنے شعائر کو ہم خود طے کریں گے۔دستور نے یہ بات تو طے کر دی ہے کہ ہم غیر مسلم ہیں لیکن ہم میں اور ایک ایسے شخص میں جو اپنی زبان اور اپنے آزادانہ اقرار سے خود کو غیر مسلم کہتا ہے یہ فرق ہے کہ ہم ایسے غیر مسلم ہیں جو قرآن اور سنت کو اپنے لئے واجب العمل سمجھتے ہیں۔اس قرآن پر ہم بھی اپنا حق سمجھتے ہیں اور یہ بات ہمارے اور آپ کے درمیان قدر مشترک ہے۔اذان اسلامی شعائر میں سے ایک اہم شعار ہے اور جو کوئی اسے ترک کر دے تو اس کے خلاف قتال و جہاد کا حکم ہے۔پس جو باتیں خدا کی عظمت کی نشانی ہیں ان کو تعزیر کا نشانہ کیوں بنایا گیا ہے۔اذان پر پابندی لگا کر ہمارے مذہبی شعائر پر پابندی لگائی گئی ہے۔مسلمانوں اور غیر مسلموں کے شعار مشترک بھی ہو سکتے ہیں جیسے داڑھی رکھنا اور ختنے کرانا مسلمانوں اور یہودیوں کے مشترکہ شعائر ہیں۔اسلام تو آخری اور ترقی یافتہ دین ہے اس کے شعائر تو بہت سے دینوں میں مشترک ملیں گے۔ہم مقدمۃ الصلواۃ کے طور پر اذان دیتے ہیں۔نماز ہمارے مذہب کا حصہ ہے اس پر پابندی لگا کر ہمارے مذہب میں عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔قصہ مختصر یہ کہ اذان کے بارہ میں ہماری معروضات قرآن حکیم کی تین آیات پر مبنی ہیں اور زیر نظر آرڈینینس تعبدی امور میں سے ایک بنیادی مذہبی حکم پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سے قرآن وسنت کے احکام اور روح اسلام کے واضح طور پر منافی ہے۔یہ پابندی نہ صرف اذان کی عظمت اور حرمت کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ ہمارے تعبد ی امور میں واضح دخل اندازی ہے۔73 الله