امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 69 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 69

چاہئے۔اگر کہیں خدا پرستی کی علامات ملیں تو اس پر توحید پرست کو پیار آنا چاہئے غصہ نہیں۔چنانچہ علامہ قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔” جب مسلمانوں میں اذان کا رواج ہوا تو کفار نے مسلمانوں کی اذان کا مذاق اُڑایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللہ کہ تم اس کا مذاق اڑاتے ہو حالانکہ اس اذان سے بہتر اور کونسی بات ہے۔یہاں اذان کو احسن قول قرار دیا گیا ہے۔(الجامع لاحكام القرآن لابي عبدالله القرطبي الجزء السادس صفحه 225,224 مطبوعه قاهره1938ء) علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ :۔كَلِمَةٍ سَوَاءٍ سے مراد ایک اللہ کی عبادت کرنا ہے اور یہی ابنیاء کی ہمیشہ سے مشترکہ دعوت رہی ہے۔(تفسير ابن كثير أردو جلد اوّل صفحه 510،509 زیر آیت آل عمران آیت 64) سید قطب کہتے ہیں :۔یہ ایک ایسی منصفانہ دعوت ہے جسے کوئی متعصب بھی کبھی رد نہیں کر سکتا“۔علامہ سیوطی بیان کرتے ہیں کہ:۔(تفسیر فی ظلال القرآن جز 3 صفحه 188ـ طبع رابع بيروت) كَلِمَةٍ سَوَاءٍ سے مراد لا اله الا اللہ ہے۔(الدرالمنثور الجزء الثانی صفحه 71 زیر آیت آل عمران آیت 65) یعنی اذان كَلِمَةٍ سَوَاءٍ ہے۔اس میں شہادتین ہے۔اس کی طرف تو عمل کی دعوت دینی چاہئے نہ کہ اس سے روکا جانا چاہئے۔اس ضمن میں مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ :۔كَلِمَةٍ سَوَاءٍ پر تو اشتراک ہونا چاہئے۔(معارف القرآن جلد دوم صفحه 87 زیر آیت آل عمران آیت (64) 69