امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 68
ضمن میں علامہ نسفی لکھتے ہیں :۔کلمۂ سواء سے مراد ایسا کلمہ ہے جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے اور جس میں تورات، انجیل اور قرآن میں کوئی اختلاف نہیں۔اور کلمہ سے مراد یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں“۔(مدارک التنزیل جلد اول صفحہ 2) وو - اس سے اصول یہ نکلتا ہے کہ اذان بھی شعائر اللہ ہے۔جو اذان دینا چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کرنا چاہتا ہے اسے کرنے دیں آخر وہ ایک نیک کام کر رہا ہے اور نیک کام میں تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ برائی کے کاموں میں تعاون نہ کرنے کا حکم ہے۔اب اگر تو اذان نیکی ہے اور ہر میں شامل ہے تو چونکہ امر مامور ہے لہذا اس سے نہیں روکنا چاہئے۔فتح مکہ کے وقت جب ایک کافر اپنی جمعیت سمیت بیت اللہ کے طواف کے لئے جا رہا تھا تو مسلمانوں نے اس پر حملہ کرنے کا سوچا کیونکہ وہ مسلمانوں کے مویشی ہنگا کر لے گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو روکا کہ بے شک یہ مشرک ہے اور کافر ہے لیکن اس وقت خدا کے گھر کے لئے نکلا ہے اس وقت اس سے تعرض نہ کرو۔اس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ خدا کا نام لینے سے کسی کا فرکو بھی نہیں روکنا چاہئے کیونکہ اذان امر مامور ہے اور قول احسن ہے۔اس بارہ میں تعاون ہوسکتا ہے۔شعائر اللہ کی وضاحت کرتے ہوئے مودودی صاحب لکھتے ہیں اس سے مراد وہ تمام نشانیاں ہیں جو موحدانہ نظام میں پائی جائیں اور مسلمان شعائر اللہ کے احترام کا پابند ہے کوئی شخص خواہ وہ غیر مسلم ہو بندگی اور اللہ کی عبادت کا کوئی جز ور رکھتا ہو تو اس کی ادائیگی پر مسلمانوں پر اس کا احترام لازمی ہے۔(تفہیم القرآن جلد اول صفحہ 439,438 زیر آیت سورۃ المائدہ:2) کسی مذہب میں خدا تعالیٰ پر ایمان کا جتنا حصہ پایا جاتا ہے وہ بجائے خود احترام کا سزاوار ہے۔اگر خدا تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ ہے تو جہاں بھی خدا پرستی کی علامات ہوں گی اس جگہ سے محبت کرنی 68