امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 66
حدیث ایسی ہے جس میں یہ ہدایت ہو کہ کسی شخص کو اذان دینے سے روکا جاسکتا ہے جو قرآن کریم کے نزدیک احسن قول“ ہے؟ اس ضمن میں تین سوال غور طلب ہیں :۔1۔اگر اذان اسلامی شعائر میں سے ایک ہے تو کیا ایسی چیز یا شعائر جو کسی غیر مسلم میں اور مسلمانوں میں مشترک ہوں اس سے غیر مسلم کو روکا جاسکتا ہے؟ کیا ایسا امر جو مسلمانوں اور غیر مسلموں میں كَلِمَةٍ سَوَاءٍ کی حیثیت رکھتا ہو اس سے غیر مسلموں کو روکا جا سکتا ہے؟ قرآن کریم فرماتا ہے کہ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُم۔۔۔(آل عمران:64) یعنی تم میں اور غیر مسلموں میں جس بات میں اصولی اختلاف نہ ہو کم از کم اس میں ہی متفق ہو جاؤ۔3۔جو چیز احسن قول ہے کیا اس کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جاسکتا ہے؟ فاضل عدالت کی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذول کرائی گئی تھی کہ مکہ میں تعاون کی پیشکش کے دو نمونے نظر آتے تھے۔کفار نے کہا کہ کچھ تم ہمارے بتوں کی عبادت کر لو کچھ ہم تمہارے خدا کی عبادت کرلیں گے۔اس طرح باہمی تعاون ہو جائے گا۔دراصل اس کا مطلب یہ بنتا تھا کہ کچھ تم غلط بات کرو کچھ ہم کرتے ہیں۔اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ قدر مشترک میں تعاون ہونا چاہئے نہ کہ اس بات میں جس میں کسی کو واضح اختلاف ہے۔اذان ایسی چیز ہے جو احمد کی اور غیر احمدی مسلمان میں قدر مشترک ہے اس پر اعتراض اور اختلاف کیوں؟ اس سلسلہ میں سورہ مائدہ کی آیت نمبر 2 ہماری بنیاد ہے:۔يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوْا شَعَائِرَ اللهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا امّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ 66