امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 58
رعایا کے درمیان جس مسئلہ میں بھی نزاع واقع ہوگی اس میں فیصلہ کے لئے قرآن وسنت کی طرف سے رجوع کیا جائے اور جو فیصلہ وہاں سے حاصل ہوگا اس کے سامنے سب سر تسلیم خم کر دیں گے۔اس طرح تمام مسائل زندگی میں کتاب اللہ، سنت رسول اللہ کو سند اور مرجع اور حرف آخر تسلیم کرنا اسلامی نظام کی وہ لازمی خصوصیت ہے جو اسے کافرانہ نظام زندگی سے ممیز کرتی ہے۔جس نظام میں یہ چیز نہ پائی جائے وہ بالیقین ایک غیر اسلامی نظام ہے“۔(تفهيم القرآن جلد اوّل صفحه 363 تا 365 از ابوالاعلی مودودی) سورۃ نساء کی اسی آیت سے عدالت کے دائرہ کار کا تعین بھی ہو جاتا ہے کیونکہ ارشاد باری یہ ہے:۔فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْ ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُوْل (سورة النساء :60) ترجمہ: یعنی جب اولی الامر سے کسی بات میں اختلاف ہو تو اس کا فیصلہ صرف قرآن وسنت کی روشنی میں ہونا چاہئے۔آرٹیکل D-203 بھی اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ قانون کا جائزہ صرف اس نقطۂ نظر سے لیا جائے گا کہ آیاوہ قرآن وسنت سے متعارض یا متصادم تو نہیں ہے۔اس آرٹیکل کی رو سے عدالت کو صرف قرآن وسنت کا پابند کیا گیا ہے اور قرآن وسنت کا پابند کرنے کے ساتھ کوئی مزید پابندی عدالت پر عائد نہیں کی گئی اور اس طرح گویا عدالت صرف قرآن وسنت کی پابند ہے اور کسی مخصوص فقہ یا اقوال فقہاء کی پابند نہیں۔گویا عدالت کو قرآن وسنت کا پابند کر کے ہر دوسرے کی تقلید سے آزاد کر دیا گیا ہے اور یوں اس آرٹیکل کے ذریعہ ایک پہلو سے عدالت کے اختیار کومحدود کر دیا گیا ہے اور دوسرے پہلو سے اس میں وسعت پیدا کی گئی ہے۔اور یہ عدالت مقام اجتہاد پر فائز ہے مقام تقلید پر نہیں۔لہذا یہ فیصلہ کرتے وقت کہ کوئی قانون 58