امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 54 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 54

جائے۔دراصل قوانین اور بالخصوص تعزیری قوانین کے قرآن وسنت کے خلاف ہونے کی صورت میں پوری قوم ایک بہت بڑے ذہنی انتشار کا شکار ہوسکتی ہے کیونکہ اسلامی احکام کے مطابق قرآن وسنت کے خلاف قوانین کی پابندی کسی اسلامی ملک میں نہ صرف یہ کہ لازمی نہیں بلکہ اس کا نہ مانا لا زم اور فرض ہے۔ایسی صورت میں اگر کوئی خلاف قرآن وسنت قانون موجود اور نافذ رہے اور شہری اسے نہ مانے پر حکم الہی سے مجبور ہو تو ایک عجیب انتشار کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔محدثین نے اس موضوع پر باقاعدہ عنوان باندھے ہیں جس کے تحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات لائے ہیں :۔1 - لَاطَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ۔(بخاری کتاب احكام باب السمع والطاعة) و بخاری کتاب الاحاد باب ماجاء في اجازة الخبر الواحد) 2 - لاطَاعَةَ لِمَخْلُوقِ فِي مَعْصِيَةِ الله (بحواله مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 131) 3 - مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ - (ابن ماجه كتاب الجهاد باب لاطاعة في معصية الله ومسند احمد بن حنبل ج 3 صفحه 67) دستور کا آرٹیکل D-203 گویا سورۃ نساء کی آیت 59 کے اصول کو نافذ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ياَيُّهَا الَّذِيْنَ مَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْ ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌو أَحْسَنُ تَأْوِيلاً۔(سورة النساء آیت:60) ترجمہ: ” مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی۔اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف 54