امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 48
رہی اور مخالف بغلیں جھانکنے لگے کہ یہ تو ہماری ہی تصویر ہمارے سامنے آگئی ہے۔اس وقت خاکسار نے یہ کہا کہ آج بھی ربوہ میں ریلوے سٹیشن کی مسجد سے ایک مولوی لاؤڈ سپیکر پر اسی طرح کی زبان استعمال کرتا ہے۔کوئی اُسے پوچھتا نہیں اور شکایت کریں تو کوئی یقین نہیں کرتا کہ مسجد کے منبر سے بھی ایسی زبان استعمال ہو سکتی ہے۔ہم نے ٹیپ ریکارڈ کر کے بھی افسران کو پہنچائی۔مگر کوئی کاروائی نہ ہوئی۔خاکسار یہ بات کر ہی رہا تھا کہ عدالت میں بیٹھا ہوا مولوی اللہ وسایا اُٹھ کر کھڑا ہوا اور شور مچانے لگا۔چیف جسٹس آفتاب حسین صاحب نے سختی سے ڈانٹ پلائی۔اور کہا ، کون ہے یہ بدتمیز اسے عدالت سے باہر نکالو۔کہاں تو ہمیں شرمندہ کرنے کے لئے ایک دُور کی کوڑی لائے تھے اور کہاں ریاض الحسن کو خود شرمندگی اُٹھانی پڑی اور اللہ وسایا کو ذلت کے ساتھ بیک بینی و دو گوش عدالت سے نکال دیا گیا۔شریروں پر پڑے ان کے شرارے فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْاعَادِي۔بحث طویل تھی اور بہت سے مسائل زیر بحث تھے۔مکمل بحث جو چودہ دن جاری رہی ضبط تحریر میں نہیں لائی جاسکتی۔دورانِ بحث جج صاحبان ساتھ ساتھ نوٹس لے رہے تھے تا ہم اس خیال سے کہ کوئی امر زیر توجہ آنے سے رہ نہ جائے ہم نے یہ مناسب خیال کیا کہ اپنی بحث کے اختتام پر خلاصہ بحث تحریری طور پر عدالت میں داخل کر دیا جائے۔جو تحریری خلاصہ بحث داخل کیا گیا وہ قارئین آئندہ صفحات میں ملا حظہ فرمائیں گے۔48