امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 38 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 38

صاحب کے پر جوش بیان سے دھل گیا۔اس روز خاکسار کا خطاب واقعی خاص تائید الہی سے تھا۔اس کا اثر یوں ظاہر ہوا کہ غیر احمدیوں کی طرف سے آئے ہوئے مولانا عبد المالک کا ندھلوی جو جامعہ اشرفیہ سے آئے ہوئے تھے انہوں نے آگے بڑھ کر خاکسار سے تعارف کروایا اور گفتگو کرتے رہے جو اس بات کی دلیل تھی کہ وہ خاکسار کے خطاب کی علمی حیثیت سے متاثر تھے۔علماء میں سے مولوی صدر الدین رفاعی راولپنڈی سے تشریف لائے تھے۔راجہ ظفر الحق وزیر مذہبی امور معروف طور پر ان کے مداحوں میں شامل تھے۔وہ غالباً وزارت مذہبی امور کی طرف سے بھجوائے گئے تھے۔اور انہوں نے خود بھی کچھ ایسا ہی اظہار کیا۔مولوی صدر الدین رفاعی نے ارتداد کی بحث کی تو چیف جسٹس نے ان کو بار بار توجہ دلائی اور کہا: چیف جسٹس : ارتداد کا معاملہ ہمارے پاس زیر بحث نہیں آپ نے قرآن وسنت کے حوالہ سے یہ بیان کرنا ہے کہ اگر یہ کافر ہیں تو ان کے کیا حقوق ہیں اور آرڈینینس کی جو دفعات ان کے بارے میں ہیں وہ صیح ہیں کہ نہیں۔جسٹس قاسمی : جو آیات پیٹیشن میں پیش کی ہیں ان کا جواب دیں۔رفاعی نے اپنی تقریر بدستور جاری رکھی تو چیف جسٹس نے انہیں ٹو کا اور کہا۔چیف جسٹس : ایک بات میں آپ کو بتا دوں عدالت میں بحث اور عوامی تقریر میں بڑا فرق ہوتا ہے۔آپ کی طرز کی وجہ سے آپ کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی۔صدر الدین رفاعی نے پبلک جلسے کے انداز میں خطاب جاری رکھا اور کہا کہ احمدی مرتد ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا چیف جسٹس : ارتداد کا معاملہ ہمارے سامنے زیر بحث نہیں۔آپ نے قرآن وسنت کے 38