امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 36
غازی ہے ہمیں اس حد تک محدود رہنا چاہئے۔ارتداد کا سوال بالواسطہ ہے۔بلا واسطہ نہیں۔یہ سارے سوال بعد میں پیدا ہو سکتے ہیں۔جب پیدا ہوں گے دیکھا جائے گا، سر دست ہمیں موضوع تک محدود رہنا چاہئے۔جسٹس قاسمی: قانون نے ہمارے لئے جو پابندی لگائی ہے اس حد تک ہم جاسکتے ہیں۔جسٹس فخر عالم : آپ زیادہ تفصیلی باتوں سے گریز کریں۔ہمیں نہیں پتہ کل کیا قانون بنے گا اور اس کو چیلنج کیا جائے گا یا نہیں۔لیکن کورٹ آبزرویشن تو دے سکتی ہے۔غازی چیف جسٹس : نہیں یہ بڑی خطرناک بات ہے۔اس مقدمہ میں ( ہنستے ہوئے ) آبزرویشن دینا بڑا خطرناک ہے۔چیف جسٹس : جب کانسٹی ٹیوشن ان کو غیر مسلم کہتا ہے تو باقی حقوق دینا حکومت کے ہاتھ میں غازی ہے۔حکومت حقوق دے سکتی ہے۔یہ لازمی نہیں کہ مرتد مان کر کوئی حق ہی نہ ہو۔جیل میں سہولتیں وغیرہ دی جاسکتی ہیں۔جسٹس فخر عالم : جیل میں رہنا بھی گویا ان کا حق ہے۔جس روز محمود غازی نے اپنی بحث ختم کی تو عدالت کا کچھ وقت باقی تھا۔پروفیسر غازی نے اپنی بحث ایک بج کر پندرہ منٹ پر ختم کی۔پندرہ منٹ عدالت کا وقت باقی تھا۔چیف جسٹس نے یہ کہا مجیب صاحب آج آپ تیار نہیں ہوں گے آپ کل سے بحث شروع کریں۔مگر خاکسار غازی صاحب اور دوسرے مشیران عدالت کی بحث 36