امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 35 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 35

یہ بھی پابندی تھی کہ وہ مسلمانوں کے لباس اور حلیہ کی تقلید نہیں کریں گے۔جسٹس قاسمی نے کہا میثاق مدینہ میں جونرم شرائط دی گئی تھیں ان کو بنیاد بنانا پڑے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض کے نزدیک اہل ذمہ کی عبادت گاہیں ان کے حوالے نہیں کی جاسکتیں کیونکہ ہر چیز تو مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ابن قیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کا لباس ایسا ہو جس سے ان کی عظمت اور بزرگی ظاہر نہ ہوتی ہو۔چیف جسٹس : مسلمان کا کوئی خاص لباس ہے؟ شریعت نے تو کوئی لباس متعین نہیں کیا۔غازی عرفاً ایک لباس بن جاتا ہے۔چیف جسٹس : لباس مقرر کرنا تو چرچ کا طریق ہے۔غازی اس زمانہ میں ٹوپی شیروانی وغیرہ علماء کا بھی لباس ہے اور معززین کا لباس بھی شمار ہوتا ہے۔خاکسار نے غازی صاحب کی جدید تراش خراش کی پینٹ بوشرٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ عالم دین اس لباس میں بھی ہو سکتا ہے۔لباس کی تخصیص تو نہ ہوئی۔محمود غازی نے یہ بھی کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں یہ پابندی تھی کہ جمعہ کے دن غیر مسلم لوگ پبلک حمام میں غسل نہ کریں۔انہوں نے اور بھی تفاصیل بیان کیں کہ ذمی زنار باندھیں اور خاص طرز کا لباس پہنیں۔غازی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مرتدین اپنی اولاد کے ولی نہیں رہتے اور ان کی اولا د بھی جوان ہو تو انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جائے گی۔اگر قبول نہ کریں تو قید میں ڈال دیا جائے گا حتی کہ قید ہی میں مرکھپ جائیں۔چیف جسٹس نے انہیں توجہ دلائی کہ مرتد کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں۔چیف جسٹس : جہاں تک مرتد کا سوال ہے ہمارے سامنے حوالے ہیں لیکن ہمارا جو موضوع 35