امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 32 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 32

نقشہ کھینچا کہ گویا ایک اسلامی ملک میں غیر مسلم آبادی دوسرے درجے کی شہری بن کر رہ جائے۔مسلمانوں کا سالباس نہ پہنیں، مخصوص قسم کی ٹوپیاں پہنا دی جائیں ،مسلمانوں کے ہم پلہ سواریاں استعمال نہ کریں، مسلمان گھوڑے پر ہوں تو غیر مسلم گھوڑے پر سوار نہ ہوں ، بلکہ خچر یا گدھا استعمال کریں، غیر مسلموں کی عمارات مسلمانوں کی عمارات سے بہتر یا بلند نہ ہوں، کسی محفل میں غیر مسلم مسلمان کے برابر یا ہم پلہ نشست پر نہ بیٹھیں۔تین روز تک ایک ایسا بھیا نک نقشہ کھینچا گیا کہ جسٹس فخر عالم یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ اس صورت میں کیا ہم موجودہ دنیا میں منہ دکھانے کے قابل رہیں گے۔بہر حال قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہ دی گئی۔علمیت کا مظاہرہ تو خوب ہوا مگر قرآن وسنت کی معرفت کا کوئی نشان ان حضرات کی پوری بحث میں نظر نہ آیا۔رہ گئے مولوی حضرات تو ان کے بارہ میں عدالت خود سخت مایوسی کا اظہار کرتی رہی۔بار بار کہتی رہی کہ باتیں غیر متعلقہ ہیں مگر یہ مولوی حضرات احمدی عقائد اور احمدیوں کو مرتد قرار دینے کے بارہ میں طویل بحثیں کرتے رہے۔عدالت بار بار کہتی رہی کہ احمدیوں کا غیر مسلم ہونا آئین میں طے کر دیا گیا ہے اس پر بحث نہ کریں۔اس بات پر بحث کریں کہ آرڈینینس میں جو پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ قرآن وسنت کی رو سے درست ہیں یا نہیں۔مگر مولوی حضرات عدالت کے تبصروں کو سنی ان سنی کر کے اپنا تیار کردہ مضمون بیان کرتے رہے۔شعبہ اسلامیات پشاور یونیورسٹی کے سربراہ قاضی مجیب الرحمن نے بھی اہل ذمہ کا ذکر کرتے ہوئے وہی باتیں دہرائیں جو پروفیسر محمود غازی نے دہرائی تھیں۔قاضی صاحب نے میثاق مدینہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ میثاق مدینہ کے ذریعہ یہودیوں کو امت میں شامل کر لیا گیا یہ بات بالکل غلط ہے اور متن کے خلاف ہے۔32