امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 29 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 29

اپنے والد صاحب سے ذکر کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔صرف یہ کہا: یہ الماریاں ہیں ، ان میں سب کتابیں موجود ہیں، ان کو پڑھو۔کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لینا۔تب میں نے پہلی مرتبہ احمدیت کا تفصیلی علم حاصل کیا۔تو ان مولوی صاحب نے بھی مجھے تبلیغ کی۔میرے لئے تو اچھا ہی ہوا۔ایک اور موقع پر بحث ہورہی تھی کہ اولوالامر کے اختیارات کیا ہیں؟ اس موقع پر یہ گفتگو ہوئی۔چیف جسٹس : اولوالامر کو حالات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔مجیب الرحمن : اولوالامر قرآن وسنت کے احکام کے معاملے میں آزاد نہیں۔جب بھی میری اور اولوالامر کی سوچ میں فرق پڑ جائے گا تو یہ دیکھا جائے گا کہ اللہ اور اس کا رسول کیا کہتے ہیں۔پھر قرآنی آیت رُدُّوهُ إِلَی اللہ سے بات ہوگی۔جسٹس عبدالقدوس کاظمی : بعض فقہاء یہ کہتے ہیں کہ جو اولوالا مرکہ دے وہی حکم ناطق ہے۔جسٹس غلام علی : یہ احکام تو صرف مسلمانوں کیلئے ہیں ان میں خطاب مسلمان کو ہے آپ کو نہیں۔غیر مسلم تو نماز نہیں پڑھتا۔اس کیلئے یہ حکم نہیں ہے۔مجیب الرحمن : یعنی یہ بات ہوئی کہ اولوالا مرغیر مسلم کو نماز پڑھنے کا حکم نہیں دے سکتا۔اس مرحلہ پر وقفہ ہو گیا۔وقفے کے بعد میں نے یہ عرض کیا۔مجیب الرحمن : پہلے میں جناب جسٹس غلام علی صاحب کی بات کا جواب دوں گا کہ قرآن کے مخاطب صرف مسلمان ہیں یا نہیں۔حقیقت میں تو قرآن کریم کے اولین مخاطب کفار تھے۔جسٹس غلام علی : میں نے عبادات کے احکام کی بات کی ہے۔مجیب الرحمن : میں آپ کی بات سمجھتا ہوں ، مجھے بات کرنے دیں۔قرآن مجید کی موجودہ 29