امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 28 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 28

جائے؟ آپ کو چاہیے کہ آپ یہ کہیں کہ ہم غیر مسلم ہیں اور ہم یہ بات کرتے ہیں۔جسٹس چوہدری محمد صدیق : آپ تبلیغ اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔اس سے مشکل پیدا ہوتی ہے۔پھر روکنا پڑتا ہے۔مجیب الرحمن : دراصل تبلیغ کو روکا نہیں جاسکتا۔دو چپڑاسی ہیں ، دوافسر ہیں۔اپنی اپنی سطح پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ایک دوسرے کے عقائد پر تبادلہ خیالات ہوتا ہے۔اس کو بھی تبلیغ کہتے ہیں۔یہ رو کی نہیں جاسکتی۔چیف جسٹس : تبلیغ کے بارے میں کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ انفرادی بحث نہ کریں؟۔اخبارات و رسائل اور اشتہار دے دیں۔یا کوئی بھی اور طریق استعمال کریں لیکن زبانی تبلیغ نہ کریں۔اس ضمن میں احمدی اس عادت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہر موقع سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔مجیب الرحمن : تبلیغ کرنے والا بے ساختہ اپنے ضمیر کی بات دوسروں سے کرتا ہے۔کوئی احمدی اپنی پوزیشن کا بے جا فائدہ اُٹھا کے تبلیغ نہیں کرتا۔چیف جسٹس نہیں یہ عادت کی بات ہے۔مجیب الرحمن : ممکن ہے یہ عادت ہو، عادت ، عادت ستیہ ہو یا عادتِ حسنہ۔چیف جسٹس میں اپنا تجربہ بتاتا ہوں۔میں urine لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا۔انہوں نے فورا ہی مذہبی گفتگو شروع کر دی۔وہ کوئی احمدی ڈاکٹر تھے۔مجیب الرحمن : اس قسم کا واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔میں نے میٹرک کا امتحان چنیوٹ سے دیا۔میں گڑھا محلہ چنیوٹ کی ایک دوکان پر بیٹھا تھا۔ایک مولوی عتیق الرحمن صاحب نے ” قادیانی نبوت“ نامی کتاب مجھے دی جو انہوں نے ہمارے خلاف لکھی تھی۔میں نے کتاب پڑھی ، بڑا پریشان ہوا۔میں نے 28