امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 318 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 318

درست طور پہ بیان نہیں کیا گیا تھا۔چنانچہ ہم نے ایک دوسری درخواست یہ گزاری کہ ریکارڈ شدہ کارروائی کی ٹیپ ہمیں مہیا کی جائے۔ہمیں اپیل کی تیاری کے لئے اس کی ضرورت ہے۔جب سماعت کے لئے ہماری اپیل پیش ہوئی تو چیف جسٹس صاحب نے مجھ سے استفسار کیا کہ ان دونوں حضرات کے اظہارِ رائے کا میرے پاس کیا ثبوت ہے۔میں نے جنگ اخبار کا تراشہ پیش کیا جو تمام جج صاحبان قریباً پڑھ چکے تھے۔پیر کرم شاہ صاحب کے TV پروگرام کی نقل تو پیش نہیں کر سکتے تھے۔چیف جسٹس صاحب کے کہنے پر ان کے انٹرویو کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھ کر دے دیا۔جب وہ حج صاحبان نے پڑھا اور پیر کرم شاہ صاحب کی طرف بڑھایا تو انہوں نے بلا تامل اسے قبول کیا اور کہا کہ ہاں میں نے ایسا اظہار کیا تھا۔تقی عثمانی صاحب نے بھی اپنے مضمون کو تسلیم کیا۔اس پر چیف جسٹس نے بعض قانونی نظائر کے حوالے سے یہ کہا کہ یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اس کی حیثیت دوسری عدالتوں سے یوں مختلف ہے کہ مقدمہ کسی دوسری عدالت کو منتقل نہیں کیا جاسکتا۔اور سپریم کورٹ کی روائت یہ ہے کہ ہم اپنے برادر جوں سے یہ نہیں کہتے کہ وہ سماعت سے الگ ہو جائیں۔وہ اگر خود سماعت سے الگ ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں انہیں پابند نہیں کیا جاسکتا۔اور ہم نے اپنے دونوں ساتھیوں سے پوچھا ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ بینچ میں بیٹھنا پسند کریں گے۔جس پر میں نے یہ کہا کہ ہم نے تو یہ پڑھا تھا کہ حضرت امام ابوحنیفہ کو جب قضا کا عہدہ پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے گند چھری سے ذبح کر دو مگر عدالت کا منصب مجھے قبول نہیں اور ہمارے محترم جج صاحبان کو عدالت میں بیٹھنے پر اصرار ہے تو میں اس پر کیا کہہ سکتا ہوں۔دونوں حضرات نے کہا کہ ہم اپنی رائے سے رجوع کر سکتے ہیں۔بہر حال ہماری یہ درخواست نامنظور کر دی گئی۔پھر ریکارڈ مہیا کرنے والی درخواست بھی کھڑے کھڑے اس بنیاد پر رد کر دی گئی کہ وہ 318