امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 23
امَنُوْالَا تُحِلُّوْا شَعَائِرَ الله اور اس بارہ میں مفسرین کی آراء ہم نے پیش کیں جس میں مودودی صاحب کی تفہیم القرآن سمیت دیگر کتب تفسیر کے حوالے پیش کئے گئے۔ہمارا استدلال اتنا قوی اور مضبوط تھا کہ جب جواب بن نہ آیا تو سرکاری وکیل سید ریاض الحسن گیلانی نے اپنے علماء کے مشورہ سے بالآخر یہ موقف اختیار کیا کہ یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔دوران بحث ایک موقعہ پر مولوی قدوس قاسمی صاحب نے ایک حوالہ کے شروع میں اس فقرہ کی طرف توجہ دلائی کہ لَا يَصِحُ اذَانُ الْكَافِرِ۔کافر کی اذان درست نہیں۔تو خاکسار نے برجستہ یہ جواب دیا کہ لا یصح سے اگر یہ مراد ہو کہ کافر کی اذان درست نہیں یا مؤثریا مقبول نہیں تو اس سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کافر کو اذان دینے سے روکا نہیں جاسکتا کیونکہ اگر روک دیا جا تا تو اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔ایک موقعہ پر عبدالقدوس قاسمی صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا شعائر غیر مسلموں کے ساتھ مشترک بھی ہو سکتے ہیں تو میں نے یہ عرض کیا جی ہاں ہو سکتے ہیں۔داڑھی رکھنا، ختنہ کرانا مسلمانوں اور یہودیوں کے مشترکہ شعائر ہیں۔اسلام تو آخری اور ترقی یافتہ دین ہے اس کے شعائر تو بہت سے مذاہب کے ساتھ مشترک ملیں گے۔جس پر مولوی غلام علی صاحب نے یہ سوال کیا کہ اگر اصلی کرنسی کے بجائے کوئی جعلی کرنسی چھاپ دے جو ہو بہو اس جیسی ہو تو کیا یہ دوسرے کے شعائر کو غلط طور پر استعمال کرنا نہیں ہوگا۔جس پر برجستہ یہ جواب دیا کہ اگر سعودی عرب کی کرنسی کا نام بھی ریال ہوا اور عراق کی کرنسی کا نام بھی ریال ہو، تو وہ اپنی اپنی جگہ پر اسی طرح استعمال ہوسکیں گی اور کوئی انہیں جعلی نہیں کہے گا۔اصل بات یہ ہے کہ اذان کو کرنسی یا مادی امور کے ساتھ کوئی نسبت نہیں اور نہ یہ تشبیہ مناسب ہے۔اذان میرا مذہبی طریقہ ہے۔آپ کا بھی یہی طریق ہے۔اس کو جعلسازی نہیں کہا جاسکتا بلکہ نیک کام میں تعاون اور اشتراک کی دعوت قرآن وسنت سے ثابت ہے۔23