امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 280
عیسی کو بُرا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتلاتا“۔(اشتہار 27 دسمبر 1897ء حاشیہ مندرجہ بلیغ رسالت جلد 7 صفحہ 70 مجموع اشتہارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام) چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے بار بار اس الزام کی تردید کی اور فرمایا:۔ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔سوہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شانِ بزرگ کے برخلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے“۔(ایام الصلح ٹائیٹل پیچ صفحہ 2) نیز فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا، یہ سب مخالفوں کا افترا ہے۔ہاں چونکہ در حقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گزرا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہو۔اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو۔اور حضرت موسی کو ڈا کو کہا ہو۔اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں راستباز نہیں ٹھہر سکتا۔لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے۔اس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔تریاق القلوب حاشیه صفحه 77 - روحانی خزائن جلد 15 صفحه 305) غرضیکہ جو مبینہ سخت الفاظ حضرت مسیح کے بارے میں بیان کئے جاتے ہیں۔وہ دراصل اُس فرضی مسیح کے بارے میں ہیں جس کو عیسائی بطور خدا کے پیش کرتے تھے۔اس مسیح کا جو نقشہ بائبل سے اُبھرتا تھاوہ گویا عیسائیوں کو بطور آئینہ کے دکھایا گیا۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔280