امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 276 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 276

الجھن کی وجہ سے احمدی شمار کئے گئے۔اور وہ احمدیوں کی تعداد کا ایک نہایت نا قابل ذکر قلیل حصہ ہی ہو سکتا ہے۔اگر ایسے لوگوں کی تعداد دو یا تین فیصد بھی سمجھی جائے تو احمدیوں کی مجموعی تعداد چالیس پچاس لاکھ کے درمیان بنتی ہے۔یہ تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ عدالت 1981 ء کی مردم شماری کے بارہ میں ان واضح حقائق سے ناواقف تھی۔اگر یہ واقعات واقعی عدالت کے علم میں نہیں تھے تو عدالت کی کم علمی قابل افسوس ہے۔دو جس پیشگوئی کے بطلان پر عدالت طعنہ زنی کر رہی ہے۔اس میں مضمون یہ تھا کہ دوسرے فرقوں کے مسلمان اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں گے“۔کیا عدالت واقعی سمجھ رہی تھی کہ دوسرے فرقوں کے مسلمان سلسلہ احمدیہ میں مسلسل داخل نہیں ہو رہے؟ کیا حکومت پاکستان اور پاکستان کے علماء اس بات پر مطمئن ہیں کہ واقعی اس پیشگوئی کا بطلان عیاں ہے۔اور دوسرے فرقوں کے مسلمان سلسلہ احمدیہ میں داخل نہیں ہور ہے۔اگر ایسا ہے تو پھر تبلیغ کی پابندی پر اس قدر اصرار کے کیا معنی ؟ تعصب ہمیشہ اندھا کر دیا کرتا ہے۔عدالت نے مذہب اور اخلاقیات کے انسائیکلو پیڈیا 1931 ء کی مردم شماری اور یونٹی unity کلکتہ کے ایک مضمون کا بھی جماعت احمدیہ کی تعداد متعین کرنے کے سلسلے میں ذکر کیا ہے۔اور اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ احمدی ہمیشہ اپنی تعداد بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔دراصل کسی بھی طبقہ کی تعداد متعین کرنا ایک مشکل امر ہے۔خود مردم شماری کے ماہرین اس عمل کی مشکلات سے آگاہ ہیں۔اور وہ اپنے اعداد وشمار کو ہمیشہ ہی مشروط قرار دیتے ہیں۔مگر بعض نمایاں عناصر ہمیشہ تعداد متعین کرنے میں ممد و معاون بھی ہوتے ہیں۔نسلی ، لسانی اور ثقافتی یا جغرافیائی بنیا دوں پر مردم شماری نسبتاً آسان ہوتی ہے۔مگر جہاں اعتقادات کی بنیاد پر مردم شماری مقصود ہو وہاں بہت سی مشکلات حائل ہو جاتی ہیں۔بالخصوص ایسے معاشروں میں جہاں ہر قسم کے اعتقادات کے لوگ یکجا طور پر آباد ہوں۔احمدیوں کی کوئی معین مردم 276