امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 274 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 274

بات کتنی واضح اور صاف اور رسول اللہ اور آپ کے صحابہ ارشاد الہی کی ایک دوسری تعبیر سمجھ کر تشریف لے جاتے ہیں مگر تقدیر الہی کسی اور رنگ میں ظاہر ہوتی ہے پس اگر حضرت مرزا صاحب کے زمانے میں بھی بعض لوگوں نے کسی دوسرے بچے کی ولادت کو موعود بیٹے کی ولادت سمجھا تو ایسے طعن کی کونسی بات تھی کیونکہ موعود بیٹے کی ولادت خود الہام کے الفاظ کے مطابق نو سال کے اندر ہونے کی بشارت تھی اور وہ بشارت کے مطابق نوسال کے عرصہ میں پیدا بھی ہو گیا۔جو بات عدالت کے طرز عمل کو مزید محلِ نظر اور قابل اعتراض ٹھہراتی ہے وہ یہ ہے کہ عدالت اس امر کو مکمل طور پر حذف کرگئی کہ 1889ء میں نو سال کے عرصہ کے اندر ایک بیٹا پیدا ہوا۔عدالت کا یہ طرز عمل، واقعات کے بیان کا یہ سرسری انداز اور ان سے توڑ مروڑ کر نتائج اخذ کر کے پیش کر دینا اور انہیں ایک عدالتی فیصلہ کا حصہ بنادینا کسی طرح بھی مناسب اور جائز نہیں تھا۔بالخصوص ایسے امور میں جو پیشگوئیوں سے متعلق ہوں جو ایک فریق کے اعتقاد اور ایمان اور نازک مذہبی جذبات سے تعلق رکھتے ہوں اور جن پر مستزاد یہ کہ اُن کے بارے میں کوئی بحث نہ ہوئی ہو اور جو معاملہ زیر نظر کے فیصلے کے لئے ضروری بھی نہ ہوں، لاتعلق امور فیصلہ میں داخل کرنے کی بدترین مثال ہے۔لہذا عدالت کے فیصلے کے صفحات نمبر 57 کے دوسرے پیراگراف سے لے کر صفحہ 59 کے دوسرے پیراگراف تک حذف کئے جانے کے لائق ہیں، چونکہ یہ غیر متعلق غیر ضروری ، دلآ زار، خلاف واقعہ اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔پیشگوئیوں کے ضمن میں عدالت نے حضرت مرزا صاحب کی تصنیف براہین احمدیہ جلد پنجم میں سے یہ عبارت نقل کی ہے کہ :۔وو مقتدریوں ہے کہ وہ لوگ جو اس جماعت سے باہر ہیں وہ دن بدن کم ہوتے جائیں گے اور تمام فرقے مسلمانوں کے جو اس سلسلہ سے 274