امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 22
نہیں اور انہوں نے جو ترجمہ وہ درست سمجھتے تھے بیان کیا۔خاکسار نے بڑے اعتماد سے جواب دیا کہ جو تر جمہ آپ کر رہے ہیں وہ آپ کی رائے ہے، وہ بھی درست ہوسکتا ہے۔لیکن جو ترجمہ میں نے پیش کیا ہے وہ اصل درست اور انسب ترجمہ ہے۔عجیب تصرف ایسا ہوا کہ رات کی تیاری میں جو حوالہ جات ترتیب دیئے گئے اس میں ترتیب ایسی واقع ہوئی تھی کہ اگلا حوالہ جو میں نے پیش کیا اس سے اس امر کی تائید ہوتی تھی کہ میرا ترجمہ درست ہے اور جب میں نے وہ حوالہ پڑھا تو قاسمی صاحب نے تسلیم کیا کہ خاکسار کا پیش کردہ ترجمہ درست تھا اور پھر اس بات پر خاموشی اختیار کر لی۔یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی۔بحث کے دوران بہت دلچسپ مراحل بھی آئے۔خاکسار نے اپنے استدلال کی بنیاد سورۃ المائدہ کی دوسری آیت پر رکھی تھی۔اس بارہ میں طویل بحث ہوئی اور ایسے مقامات آئے جس میں فریق مخالف کی طرف سے جواب دینے سے عاجزی اور دلائل کے میدان میں کمزوری اور کم مائیگی کھل کر سامنے آئی۔ہم نے جب اپنی درخواست دائر کی تو اس میں ہم نے سورۃ المائدہ کی آیت وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْم الخ۔پر انحصار کیا تھا اور اس وقت ہمارے پیش نظر تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ۔وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَان كا مضمون بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔تیاری کے دوران جب آیت نکالی گئی تو اس آیت کے پہلے ٹکڑے نے خصوصیت سے ہماری توجہ کو کھینچا۔یعنی يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْالَا تُحِلُّوْا شَعَائِرَ اللهِ۔اور جب اس آیت کی شان نزول کے بارہ میں تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ فتح مکہ کے بعد مشرکین مکہ کی ایک جمعیت اپنے قربانی کی جانور ہانکتے ہوئے اپنے مشرکانہ انداز میں حج کے لئے روانہ ہوئے تو صحابہ نے روکنا چاہا صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین مکہ مسلمانوں کو حج سے روکنے کے مرتکب ہو چکے تھے اور بعض صحابہ نے یہ سمجھا کہ انہیں اب مشرکین مکہ کو روکنے کا حق ہے تو اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ بايُّهَا الَّذِيْنَ 22