امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 273 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 273

مزاج یا سطحی نظر سے معاملات کو دیکھنے والے لوگوں کا پیشگوئیوں جیسے نازک امور میں ٹھوکر کھا جانا یا برگشتہ ہوجانا بعید از قیاس نہیں اور ابنیاء کی تاریخ میں جگہ جگہ اس کی مثالیں موجود ہیں۔ضعیف الاعتقاد لوگوں کی برگشتگی کا تو کیا ذ کر بعض دفعہ ”راسخون فی العلم بھی وقتی طور پر ابتلاء کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔مگر بالآخر ان کا پختہ ایمان اور راسخ عقیدہ انہیں اس ابتلاء سے نکال باہر لے آتا ہے۔ہم قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ علیہ وسلم سے پیشگوئیوں کے بارے میں اصولی بحث کے دوران بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ تاریخ مذاہب میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب انبیاء کرام اور مامورین مسن اللہ خود اپنے الہام کا منشاء و مفہوم اور مصداق صحیح طور پر متعین نہ حضرت یونس عذاب الہی کی وعید میں مضمر تو بہ کی شرط کو نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے عذاب کو ناگزیر جان کر نینوا سے نکل کھڑے ہوئے مگر عذاب بعد میں ٹل گیا۔انبیاء علیہم السلام کے تو رویاء بھی وحی کا درجہ رکھتے ہیں۔حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام کو کیسا ابتلاء پیش آیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک صاف رویا کی بناء پر جس میں آپ نے اپنے صحابہ کے ساتھ المسجد الحرام میں داخل ہو کر امن کے ساتھ طواف کرتے دیکھا تھا تو عمرہ کرنے کی غرض سے روانہ ہوئے۔خود آنحضور اور 1400 کے قریب صحابہ سب کے سب اس رؤیا کی یہی تعبیر سمجھتے تھے۔مگر تقدیر الہی کسی اور رنگ میں ظاہر ہوئی اور اس سال عمرہ نہ ہو سکا تو صحابہ کو ایسا جھٹکا لگا کہ حضور کے ارشاد کے باوجود انہوں نے اپنی قربانیاں ذبح کرنے میں تامل کیا اور حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی کی زبان پر یہ سوال آ گیا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ کیا یہ خدا کا وعدہ کہ ہم طواف کریں گے سچا نہیں تھا؟ اور حضور" کو یہ وضاحت کرنا پڑی کہ خدا کے وعدے تو بچے ہیں مگر رو یا میں اسی سال کی تعیین تو نہیں تھی۔273