امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 270
انہیں بھی اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔حضرت مرزا محمود احمد صاحب کو خدا نے خاص علم قرآن عطا کیا تھا۔چنانچہ انہوں نے ایک تقریر میں کہا! احرار یو! کان کھول کر سن لو! تم اور تمہارے لگے بندھے میرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔میرزا محمود کے پاس قرآن کا علم ہے تمہارے پاس کیا دھرا ہے۔تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔۔۔میرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے ایک اشارے پر اس کے پاؤں پر نچھاور کرنے کو تیار ہے۔۔۔میرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔مختلف علوم کے ماہر ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے۔(ایک خوفناک سازش صفحه 196 مؤلفه مولانا مظهر على اظهر) ایک موقع پر جب اسلامیہ کالج لاہور کے ہسٹار یکل سوسائٹی کے زیر اہتمام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ” اسلام میں اختلافات کا آغاز“ کے عنوان سے لیکچر دیا تو سید عبد القادر صاحب نے صدارتی خطاب میں فرمایا :۔آج شام جب میں اس ہال میں آیا تو مجھے خیال تھا کہ اسلامی تاریخ کا بہت سا حصہ مجھے بھی معلوم ہے اور اس پر میں اچھی طرح رائے زنی کر سکتا ہوں۔لیکن اب جناب مرزا صاحب کی تقریر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں ابھی طفل مکتب ہوں“۔(الفضل 8 مارچ1919 صفحہ 5) اور جب یہ لیکچر ایک کتاب کی شکل میں شائع ہوا تو سر عبد القادر نے لکھا:۔فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نام نامی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ تقریر نہایت عالمانہ ہے۔مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ مھد بد ہے اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا 270