امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 268 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 268

ہوئے جنہوں نے بفضل خدا لمبی عمر پائی اور ایک بیٹا ان میں سے وہ موعود بیٹا تھا جس کی خاص بشارت خدا کی طرف سے دی گئی تھی۔اس بیٹے کے بارے میں اشتہار 22 مارچ 1886ء میں مرزا صاحب نے لکھا:۔ایسا لڑکا بموجب وعدہ الہی نو سال کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا خواہ وو جلد ہو خواہ دیر سے۔بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا“۔عدالت نے 20 فروری 1886ء کے اشتہار کا ذکر بھی کیا اور 8 اپریل کے اشتہار کا بھی اور 22 مارچ 1886ء کے اشتہار کا تذکرہ بھی کیا۔مگر اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ صاحب الہام نے خدا کے الہام کے مطابق اس بیٹے کی پیدائش کی معیاد نو سال متعین کر دی تھی۔اور مرزا بشیر الدین محمود احمد اس عرصہ میں 12 جنوری 1889 ء میں پیدا ہوئے اور تقریباً 77 سال عمر پائی۔52 سال کے طویل عرصہ تک خلافت احمدیہ کے منصب پر متمکن رہے۔اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کے مدعی تھے اور جماعت احمد یہ انہی کو اس پیشگوئی کے مطابق موعود بیٹا اور مصلح موعود تصور کرتی ہے۔جو بات عدالت کے طرز عمل کو مزید محل نظر اور قابل اعتراض ٹھہراتی ہے وہ یہ ہے کہ عدالت اس امر کو مکمل طور پر حذف کر گئی کہ 1889 ء میں نو سال کے عرصہ کے اندر پیشگوئی کے مطابق ایک بیٹا ہوا۔عدالت کا یہ طرز عمل ، واقعات کے بیان کا یہ سرسری انداز اور ان سے توڑ مروڑ کر نتائج اخذ کر کے پیش کر دینا اور انہیں ایک عدالتی فیصلہ کا حصہ بنا دینا کسی طرح بھی مناسب اور جائز نہیں تھا۔بالخصوص ایسے امور میں جو پیشگوئیوں سے متعلق ہوں جو ایک فریق کے اعتقاد اور ایمان اور نازک مذہبی جذبات سے تعلق رکھتے ہوں اور جن پر مستزاد یہ کہ ان کے بارے میں کوئی بحث نہ ہوئی اور جو معاملہ زیر نظر کے فیصلے کے لئے ضروری بھی نہ ہوں، لا تعلق امور فیصلے میں داخل کرنے کی بدترین مثال ہے۔لہذا عدالت کے صفحات نمبر 57 کے 268