امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 256
میور اور دیگر مستشرقین کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جو ان بار یک امور سے آگاہی نہ ہونے کے باعث محض دنیا دارانہ نگاہ سے ایسی پیشگوئیوں کو دیکھتے اور ان پر محض اپنی زمینی خرد کے زیر اثر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔شادی کی خاطر الہام بنا لینے کا اعتراض اس وقت بھی کم فہمی پر مبنی تھا جب عیسائی مستشرقین نے ہمارے آقا ومولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا۔اور اب بھی ان امور سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہے۔عدالت کے لئے ہرگز روانہ تھا کہ وہ ان نازک امور میں رائے زنی کرتی۔اور ایسے میدانوں میں قدم رکھتی جن سے وہ آشنا نہیں۔عدالت نے یہ رویہ اختیار کر کے ایک ایسے اصول کو تسلیم کیا ہے جسے قرآن تسلیم نہیں کرتا۔اور جس کی بنیاد پر عیسائیوں اور آریوں کو محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے کی گنجائش اور موقعہ میسر آتا ہے۔بد زبان اور گندہ دہن پادری ولیم آف ریواڑی نے جب حضرت زینب کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کو اعتراض کا نشانہ بنایا اور شادی کی خاطر وحی تراش لینے کا الزام دھرا تو وہ وہی بات کہ رہا تھا جو عدالت نے کی۔بات اس کی بھی غاہ تھی اور عدالت کی بھی۔اسی طرح پنڈت کر پارام شرمانے جب اسی ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے بارے میں بد زبانی سے کام لیا۔(نوٹ : جن دوحوالوں کا یہاں اجمالاً ذکر کیا گیا ہے وہ پادری ولیم آف ریواڑی کی کتاب محمد کی تاریخ کا اجمال (صفحہ 14) مطبوعہ کر چین مشن ریواڑی 1897ء اور پنڈت کر پارام شرما کی کتاب عقائد اسلام پر علی نظر ( صفحہ 15) میں دیکھے جا سکتے ہیں ان حوالوں کی زبان ایسی ہے کہ اس کا نقل کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔تاہم ان حوالوں کی نشاندہی سے مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ عدالت کا انداز فکر حتی کہ طرز بیان بھی غیر مسلم معترضین اسلام سے نہ صرف مماثلت رکھتا ہے بلکہ اس کا مؤید ہے) تو اُس نے بھی وحی قرآنی کو محض شادی کی خواہش پر محمول کر لیا تھا۔اور یہ گمان کر لیا کہ گو یا حضور نے نعوذ باللہ خاکم بدہن ہوائے نفس کی خاطر وحی تراش لی تھی۔مگر قرآن حکیم 256