امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 252
عدالت نے نہ تو پوری عبارت نقل کی نہ اس کی طرف توجہ کی اور ایسے نتائج اخذ کیے جو خلاف واقعہ ہیں۔ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئیوں میں اگر صراحنا الفاظ موجود نہ بھی ہوں تو بھی رجوع اور تو بہ ایک مخفی شرط ہوا کرتی ہے اور اس بارہ میں ہم قرآنی آیات اور امام فخر الدین رازی کا قول نقل کر چکے ہیں مگر اس پیشگوئی میں تو بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے“ کی شرط واضح الفاظ میں موجود ہے۔عبد اللہ آنتقم کار جوع تو اس مجلس میں ظاہر ہو گیا تھا جب پیشگوئی سنتے ہی :۔اس نے فوراً زبان باہر نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھے رنگ زرد ہو گیا، آنکھیں پتھرا گئیں اور سر ہلا کر کہا کہ میں نے تو ایسا نہیں لکھا (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دجال کا لفظ استعمال نہیں کیا “ (رساله نو راحمد صفحه 31 مطبع ریاض هند) اسی وقت کی روایات میں یہ بات بھی ریکارڈ پر آ گئی کہ:۔و تھم اُٹھا اور گر پڑا حالانکہ وہ بہت قوی آدمی تھا اور دو عیسائیوں نے بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے اٹھایا اور اس کی یہ حالت دیکھ کر خود بعض عیسائی یہ کہنے لگے کہ آتھم بے ایمان ہو گیا ہے اور ڈر گیا ہے“۔(اصحاب احمد جلد 4 صفحه 149 روایت نمبر 28 روایت منشی ظفر احمد کپورتھلوی) عبداللہ آتھم کے رجوع کے بارے میں بہت کچھ مواد تاریخ میں محفوظ ہے یہ پیشگوئی اسلام کے مقابلے میں عیسائیت کی شکست کا ایک عظیم نشان تھا۔آتھم ایک مشہور منا داور مبلغ تھا مگر اس پیشگوئی کے بعد اس نے مسیحیت کی تائید میں کتب اور رسالہ جات کا کام بند کر دیا اور آخر دم تک خاموشی اختیار کئے رہا۔رجوع کی اس سے زیادہ واقعاتی شہادت اور کیا ہوسکتی ہے مگر صرف رجوع نہیں وہ عملاً ایک ہاویہ میں گرایا گیا۔حواس کا یہ عالم تھا کہ اسے عجیب عجیب قسم کے نظارے نظر آنے لگے اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے بیان کیا کہ اسے 252