امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 251 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 251

مگر عدالت نے ان تمام حقائق سے گریز کرتے ہوئے یہ لکھنے میں کوئی عار نہ سمجھا کہ حضرت مرزا صاحب دلائل میں عاجز آگئے۔وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ عدالت نے ان دلائل کو ایک نظر بھی نہیں دیکھا۔لائق صد افسوس امر یہ ہے کہ عدالت نے یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آیا یہ پیشگوئی مرزا صاحب نے اپنی سچائی کے سلسلہ میں کہ تھی یا اسلام کی سچائی میں۔اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا کہ مسائل مناظرہ کیا تھے۔الوہیت مسیح کے لئے پادری صاحب کیا کیا دلائل دیتے رہے اور مرزا صاحب نے کیسے کیسے ان کو توڑا اور کیا الوہیت مسیح کے دلائل ہی کا پلڑا بھاری تھا؟ یا اس کی نفی میں قرآن کریم کے دلائل غالب تھے؟ عاجز کون آیا ؟ یہ امر مطالعہ سے تعلق رکھتا ہے۔یہ بات گو مباحثہ کی کارروائی دیکھنے سے بھی عیاں ہوگی مگر مرزا صاحب نے جو پیلگوئی کی وہ کیا تھی ؟ وہ میتھی :۔” مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہادیہ میں گرایا جاویگا اور اس کو سخت ذلّت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔اس کے ساتھ ہی مرزا صاحب نے یہ سوال کیا:۔اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا یہ سب آپ کے منشاء کے موافق کامل پیشین گوئی اور خدا کی پیشین گوئی ٹھہرے گی یا نہیں ٹھہرے گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کے بارے میں جن کو اندرونہ بائبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں محکم دلیل ہو جائے گی یا نہیں“۔251