امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 243
لکھتے ہیں :۔”ہماری رائے میں یہ کتاب (براہین احمدیہ ناقل ) اس زمانہ میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں۔لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ امراً۔اور اس کا مؤلّف بھی اسلام کی مالی و جانی قلمی اور لسانی و حالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔(رسالہ اشاعت السنہ نمبر 6 جلد 7 صفحہ 169) (4) براہین احمدیہ پر عامیانہ اعتراض کرنے کے بعد عدالت نے اس کتاب کے مضامین سے یہ اعتراض اُٹھایا کہ ”مرزا صاحب کے دعاوی بتدریج ظہور میں آئے۔1882ء میں انہوں نے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد مجد دکا دعویٰ کرنے میں دوسال لگادیئے مسیح موعود کا دعویٰ کرنے کے لئے انہوں نے لکھا کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام سے مماثلت رکھتے ہیں۔اور ظلی نبوت کے دعوی کے لئے انہوں نے کہا کہ ان کی طرف وحی نازل ہوتی ہے اور عیسی علیہ السلام کی طبعی وفات اور ان کا کشمیر میں مدفون ہونا گویا صرف اس لئے تراش لیا گیا تھا تا کہ خود مثیل مسیح بن سکیں اور خاتم النبیین کی رکاوٹ دور کرنے کے لئے لفظ خاتم کے نئے معنی دریافت کر لئے۔یہاں پھر وہی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ آخر آرڈینینس کے جواز یا بطلان کا مرزا صاحب کے دعاوی کی تدریج سے کیا تعلق؟ اگر حضرت مرزا صاحب کے دعاوی تدریجا نہ ہوتے تو کیا اس وجہ سے آرڈینینس قرآن وسنت کے خلاف قرار پاتا ؟ اور اگر حضرت مرزا صاحب کے دعاوی 243