امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 18 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 18

پر پابندی کے بارہ میں آرڈینینس کا شق وار جائزہ لینے سے پہلے ہم نے یہ بات بھی عدالت پر واضح کی کہ کسی قانون کا جائزہ لیتے وقت متعلقہ نصوص اور آیات کے ساتھ ساتھ اسلام کے عام شرعی اصولوں اور روح اسلام سے ہم آہنگ ہونے کا بھی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔یعنی یہ دیکھنا ہوگا کہ متعلقہ امر زیر غور کے بارہ میں قرآن کی عام تعلیم اور اصول کیا ہے۔ہم نے یہ بحث بھی اُٹھائی کہ کوئی بھی اولی الامر یا اقتدار اعلیٰ جب وقتی تقاضوں کے تحت کوئی قانون وضع کرنا چاہے، تو ان امور میں قانون سازی کر سکتا ہے جن میں شریعت نے خاموشی اختیار کی ہو۔مگر کسی اقتدار وقت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ حلت و حرمت کی نئی قدریں قائم کرے یا قرآن کی بیان کردہ کسی نیکی کو بدی قرار دے دے، یا بدی کو نیکی ٹھہرائے۔حریت فکر حریت فکر کے بارہ میں بھی اسلامی تعلیمات کی روح کا جائزہ لیا گیا اور اس بارہ میں متعد د قرآنی آیات سے مضمون واضح کیا کہ مذہب کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر اسلام نے روا نہیں رکھا۔اس ضمن میں سورۃ یونس کی آیت نمبر 99 پیش کی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، لَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعاًن اور قرآنی آیات سے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو انسان کو اور ہی مخلوق بنا دیتا اس طرح سے کہ وہ نیکی اور بدی سے بے نیاز ہو جاتے۔مگر مشیت ایزدی نے ایسا نہیں چاہا بلکہ انسان کو خیر وشر کی پہچان کروائی اور پھر ا سے آزاد چھوڑ دیا اور خود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں ایمان داخل کریں اور انسان کا شرف ہی اس کی یہ آزادی ہے۔اس بارہ میں ہم نے جملہ آیات کی تفاسیر اور ان کی آراء بھی عدالت کے سامنے پیش کیں۔قرآن شریف کی آیت لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ کی شانِ نزول سے بھی ہم نے استدلال کیا کہ جب 18