امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 231 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 231

فرما کر صحابہ کرام کو تسلی دلائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب رسول وفات پاچکے ہیں اور آپ کا وفات پانا بھی مقدر تھا۔پس اس آیت کے اندر رسول اللہ سے پہلے تمام انبیاء کی وفات کا مضمون واضح طور پر بیان ہوا ہے۔گویا اس آیت کے ذریعہ سے صحابہ کا پہلا اجماع ہی عیسی علیہ السلام کی وفات پر ہوا۔آیت کے اگلے حصہ میں آفَائِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ فرما کر خلا کے معنی واضح کر دیئے گئے اور خلا ( یعنی گزر جانے ) کوموت اور قتل کی دو صورتوں میں حصر کر دیا گیا ہے چنانچہ خلا کے معنی موت یا قتل کے سوا کچھ نہیں۔مبادا کوئی یہ کہے کہ خلا یعنی گزر جانے کے معنی فوت ہو جانے کے کہاں ہیں تو ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ قرآن شریف میں متعدد مقامات پر خلا یعنی گزر جانے کا مفہوم فوت ہو جانا ہی ہے۔خود اس آیت کی شان نزول کو دیکھئے۔جنگ اُحد کا موقعہ ہے حضور زخمی ہیں۔صحابہ پریشان ہیں۔سراسیمہ ہیں۔حضور کی موت کی خبر اڑ گئی ہے۔پسپائی کا عالم ہے تو خدا آسمان سے پکارتا ہے۔محمد ایک رسول ہی تو ہیں آپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں اگر آپ قتل کر دیئے جائیں یا وفات پا جائیں تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گئے۔یہ موقعہ یہ شان نزول، یہ انداز تخاطب صاف کہہ رہا ہے کہ آپ سے پہلے رسولوں کے فوت ہو جانے کا ذکر ہے جبھی تو ڈھارس بندھائی جارہی ہے۔کوئی صحابی پلٹ کر نہیں کہتا کہ سارے نبی تو فوت نہیں ہوئے ایک تو زندہ موجود ہے ہمارے آقا کیوں زندہ نہ رہیں۔دیکھئے خود صحابہ نے اسے کیسے سمجھا۔اُحد کے روز جس سانحہ سے صحابہ گھبرا رہے تھے اور جس اٹل گھڑی کے بارے میں خدا دلا سے دے رہا تھا۔جب وہ گھڑی واقعی آ پہنچی اور حضور وفات پا گئے تو اس وقت صحابہ نے اس آیت کے مفہوم سے کیا سمجھا؟ حضرت ابوبکر نے 231