امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 227 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 227

ہوتے ہوئے شریعت محمدیہ کے تابع ہو کر کسی آنے والے سے کیسے ختم نبوت ٹوٹ جاتی ہے۔آئیے اب اس دلیل کو ذرا قرآن شریف کے سامنے پیش کر کے دیکھیں۔حضرت عیسی علیہ السلام قرآن حکیم کے مطابق رَسُولًا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ (آل عمران:50) یعنی صرف بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے اور تورات کے پابند تھے۔پھر انجیل میں بھی حضرت مسیح کا یہ قول موجود ہے کہ ” میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں بھیجا گیا۔پس مسیح بنی اسرائیل کی دعوت قرآن اور انجیل کی رو سے بنی اسرائیل تک ہی محدود تھی۔وہ سب مسلمانوں کو دعوت کیسے کر سکتے ہیں اور وہ توریت کے پابند ہوکر قرآن کو کیسے حکم مانیں گے۔قرآن شریف تو یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں اور جب تک زندہ رہیں نبی ہوں گے اور انہیں احکام کے پابند ہونگے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دیئے گئے تھے جیسا کہ فرمایا قَالَ إِنِّی عَبْدُ الله النِيَ الْكِتَب وَجَعَلَنِي نَبِيِّاً وَجَعَلَنِي مُبَارَكاً أَيْنَمَا كُنْتُ وَأَرْضنِى بالصلوةِ وَالزَّكواةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (مريم: 32,31) یعنی مسیح نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے اس نے کتاب بخشی ہے اور مجھے بنی بنایا ہے اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے بابرکت وجود بنایا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں مجھے نماز اور زکوۃ کی تاکید کی ہے لہذا مسیح جو ”رسولاً الى بنی اسرائیل“ تھے اور صرف اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔خود قرآن اور انجیل کی رو سے امت مسلمہ کی طرف رسول بن کر نہیں آسکتے دونوں کتابوں کی تعلیمات کی تفاصیل اور تشریعی احکام کا فرق واضح ہے، صرف کلمہ، نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کا فرق ہی کتنا بین ہے۔پھر اس کے باوجود تو رات کا پابند قرآن کا پابند کیسے ہو سکتا ہے۔بات آنے یا نہ آنے کی نہیں۔بات یہ ہے کہ آتا ہے تو کس حیثیت سے آتا ہے؟ اختلاف کا باعث یہ امر ہے کہ مسلمانوں کے بیشتر مکاتب فکر کے نزدیک حضرت عیسی ابن مریم جو بنی اسرائیل کے سلسلہ انبیاء کے ایک 227