امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 224
اس امر پر شاہد ہے کہ وہ اعتقاد میں میانہ روی کی تلقین کر رہے ہیں اور خود امام غزالی نے اس کتاب میں ہی واضح الفاظ میں یہ لکھا ہے کہ اجماع کا حجت ہونا بوجوہ مشتبہ امر ہے اور اجماع کا منکر یا نصوص کی تاویل کرنے والا کا فرنہیں ہوتا اور اس کی تکفیر درست نہیں۔گویا امام غزالی کے قول سے عدالت نے وہ نتائج اخذ کیے جو امام غزالی کی عبارت کا منشاء و مقصود نہیں۔جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جو عدالت نے اپنے فیصلہ میں نقل کی ہیں اور جس میں حضور نے لانبی بعدی یا اس سے ملتے جلتے مفہوم والے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ان احادیث کا سیاق و سباق اور مفہوم ایک طویل بحث کا متقاضی ہے، لیکن جیسا کہ خود عدالت نے اپنے فیصلہ میں تسلیم کیا ہے حضور نے یہ ارشادات مختلف مواقع پر فرمائے اور ان کا مفہوم ان مواقع کے پورے پس منظر میں ہی متعین ہوسکتا ہے۔عدالت نے ختم نبوت کی بحث میں احادیث کے ضمن میں یہ حدیث تو نقل کر دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی آخری نبی تھے جب کہ آدم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے مگر اس کے لازمی اور منطقی نتیجہ پر غور نہیں فرمایا کہ یہ حدیث بھی ”غیر مشروط آخری نبی“ کے مضمون کو رڈ کر رہی ہے کیونکہ یہ حدیث بھی اس مضمون کو واضح کر رہی ہے کہ ختم نبوت زمانے کے لحاظ سے نہیں بلکہ مقام کے لحاظ سے ہے ورنہ اگر ختم نبوت کا زمانی مفہوم لیا جائے تو حضور سے پہلے سارے انبیاء جھوٹے ٹھہریں گے۔جیسا کہ عدالت نے اپنے فیصلہ میں بجاطور پر لکھا ہے کہ لفظ خاتم النبین کی تشریح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔مگر حضور کی تشریح متعین کرنے کے لئے صرف ایک قول پر ہی نہیں تمام اقوال پر بیک وقت نظر رکھنی چاہئے۔حضور کے بعض اقوال کو تسلیم کر لینا اور بعض کو نظر انداز کر دینا سوء ادب اور گستاخی ہے جب حضور کے تمام اقوال پر نظر ڈالیں گے تو یہ بات واضح طور پر نظر آئے گی کہ لانبی بعدی فرمانے کے باوجود حضور 224