امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 217 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 217

میں کچھ فرق نہ آئے گا۔( تحذیرالناس صفحہ 28 مطبوعہ خیر خواہ سرکار پر میں سہارنپور 1309ھ ) گویا پرانا نبی تو درکنار کوئی نیا نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمدی کے منافی نہ ہوگا۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں عامتہ المسلمین کے عقیدہ پر بھی تو جہ نہیں کی اور بی تا ثر قائم کیا کہ ختم نبوت کے اس مفہوم پر جملہ مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمان باہم متفق ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی قسم کا نبی نہیں آ سکتا۔جب کہ عامتہ المسلمین کے عقیدہ کی رو سے امت مسلمہ کی اصلاح نو کے لئے مسیح نبی اللہ اور مہدی کے ظہور پر اجماعی اتفاق پایا جاتا ہے اور یہی عقیدہ احمدیوں کا بھی ہے۔مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا یہ عقیدہ امت میں نہ تو کوئی نئی بات تھی اور نہ ہی امت کے عقائد کے خلاف تھی۔چنانچہ سائلان نے اپنے ” خلاصہ بحث کے صفحہ 97 سے لے کر صفحہ 105 تک چودہ صدیوں پر پھیلے ہوئے بزرگان امت کے حوالے اختصار کے ساتھ پیش کر دیئے تھے۔مولا نا محمد قاسم نانوتوی سے ایک ہزار برس پہلے حضرت ابو عبد اللہ محمد بن علی حسین الحکیم الترمذی نے تو یہاں تک فرمایا :۔يظن ان خاتم النبيين تاويله انه آخر هم مبعثاً ـ فاي منقبة في هذا؟ واي علم فى هذا؟ هذا تاويل البله الجهلة (ختم الاولیاء از شیخ ابی عبدالله محمد بن علی حسين الحكيم صفحه341 بيروت) ترجمہ:۔خاتم النبین کی یہ جو تاویل کی جاتی ہے کہ آپ بعثت کے لحاظ سے آخری نبی ہیں اس میں کونسی شان پائی جاتی ہے اور اس تاویل میں کونسی علمی بات ہے یہ تو بے وقوفوں اور جاہلوں کی تاویل ہے۔حضرت محی الدین ابن عربی کا ارشاد ہے:۔217