امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 195
دوسرا حصہ فیصلے کا دوسرا حصہ جو نمایاں طور پر باقی فیصلہ سے الگ نظر آتا ہے 82 صفحات پر پھیلا ہوا ہے جس میں وہ امور بیان کئے گئے اور ان پر رائے دی گئی جن کو عدالت دورانِ سماعت غیر متعلقہ قرار دے چکی تھی۔اور خاکسار کو بھی اس پر مزید بحث کرنے سے روک دیا تھا۔غیر متعلقہ بحث فیصلے میں داخل کرنے کی دلیل عدالت نے یہ دی کہ احمدیوں کے مسلمان ہونے کے مفروضے پر مسٹر مجیب الرحمن کی بحث اس عدالت کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اس سوال کو زیر غور لائے۔لہذا عدالت کا اس نقطہ پر فیصلہ دیئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اس نقطہ پر پوری بحث ہوئی اور اس فیصلہ میں ہم اس کا جائزہ لیں گے۔اپنی تحریری بحث میں سائلان کا یہ بیان کہ وہ خود اس سوال کو نہیں اُٹھانا چاہتے تھے صرف جزوی طور پر ہی درست ہے۔“ تیسرا حصہ تفصیلی فیصلے کا تیسرے حصہ میں صفحہ 86 سے لے کر صفحہ 120 تک ہمارے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔عدالت نے لکھا:۔یکے از سائلان 'مجیب الرحمن، جنہوں نے مقدمے میں بحث کی ، مندرجہ ذیل نکات اٹھائے: 1- Article 203D کا دائرہ کار 2۔قرآن نہی کے اُصول 3 روح قرآن -4۔مذہب کے اظہار اور اس پر عمل کا دائرہ کار 5۔اپنے مذہب کو تبدیل کرنے کا حق 6۔قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین تخلیق پاکستان کے دوران ان 195