امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 181 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 181

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حکومت انگریزی کی مدح سرائی کرتے ہوئے اس کے حق میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس حکومت کا سایہ لمبا کرے کہ اس میں ہمارے فرقہ اہل حدیث کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔(اشاعة السنه نمبر 1 جز 9 صفحه 16,15 ، 404تا407 ، 354 تا355) مولوی نذیر حسین دہلوی شیخ الگل نے جہاد کی شرائط کا ذکر کر کے اپنے فتویٰ میں کہا کہ ہندوستان میں یہ شرائط موجود نہیں اس لئے یہاں جہاد کرنا معصیت اور ہلاکت ہے۔(فتاوای نذیریه جز 3 صفحه 282 تا 285 كتاب الاماره والجهاد طبع دوم 1971ء) مولوی نذیر حسین صاحب کے اس فتویٰ پر درجن بھر علماء کے دستخط ثبت تھے۔آپ کے شاگرد مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کے مسائل بیان کر کے لکھا کہ ہندوستان دار السلام ہے اور اس کے ساتھ کسی بادشاہ کو مذہبی لڑائی کرنا جائز نہیں۔(الاقتصاد في مسائل الجهاد حصه اوّل صفحه 25 بار دوم 1979ء امام ابوحنیفه اکیڈمی بھاولنگر) بریلوی مکتب فکر کے بانی مولوی احمد رضا خاں بریلوی کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ ہندوستان دارالحرب نہیں دار السلام ہے۔(نصرة الابرا صفحه 29 مطبع صحافی لاهور ايجيسن بریلویوں کی مشہور کتاب بہار شریعت میں صاف مذکور ہے کہ :۔وو ہندوستان دار السلام ہے (بہار شریعت حصه نهم صفحه 153) فرقہ امامیہ کے علامہ علی حائری رئیس الشیعہ نے مذہبی آزادی کی بنا پر فرقہ شیعہ کی طرف سے حکومت انگریزی کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ہر شیعہ کو اس احسان کے عوض میں جو آزادگی مذہبی کی صورت میں انہیں حاصل ہے صمیم قلب سے برٹش حکومت کا رہین احسان اور شکر گزار ہونا چاہئے اور اس کے لئے شرع اس کو مانع نہیں ہے۔موعظه تحریف قرآن صفحه 72 مطبوعہ 1923 مطبع خواجہ بک ایجنسی لاہور ) 181