امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 179
جہاد اگر چہ ہم نے اپنے عقائد کی بحث نہیں چھیڑی تھی اور ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ دستوری ترمیم چونکہ زیر بحث نہیں آ سکتی لہذا قطع نظر ہمارے عقائد کے ہمیں آزادی مذہب اور آزادی عبادت کا حق ملنا چاہئے۔مگر فاضل مشیران عدالت نے ہمارے عقائد کی بحث بھی چھیڑی اور کہا کہ مرزا صاحب جہاد کے منکر تھے۔جہاد کے لئے خدا اور رسول نے شرائط عائد کی ہیں اگر وہ شرائط پوری نہ ہوں تو جہاد فرض نہیں ہوتا۔جہاں جہاد فرض نہ ہو وہاں جنگ کرنا جہاں گیری تو ہو سکتی ہے اسلامی جہاد نہیں کہلا سکتا۔عدالتی معاونین نے اس بارہ میں بھی بڑی مغالطہ آرائی کی ہے۔بقول ان کے یہ تو بڑا ظلم ہو گیا۔ہندوستان جو دارالحرب تھا مرزا صاحب نے انگریزوں کی تعریف میں اسے دار السلام بنادیا۔ان کے خلاف جہاد بالسیف کو منسوخ قرار دیا جو مسلمانوں کا جزوایمان تھا۔انہوں نے اس اہم فریضہ سے توجہ ہٹا دی۔عدالتی معاونین اس ضمن میں اپنے ان اکابرین، علماء اور شیوخ حتی کہ ڈاکٹر علامہ اقبال کو بھول گئے جو انگریزی حکومت کی تعریف میں رطب اللسان رہے۔انہوں نے ہندوستان میں انگریزی حکومت کو باعث برکت و سعادت سمجھا۔ہندوستان کو دار السلام قرار دیا اور صاف لکھا ہے کہ یہاں امن وامان ہے، مذہبی آزادی ہے اس لئے جہاد کی شرائط پوری نہیں ہوتیں بلکہ یہ بھی لکھا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا شرعاً نا جائز ہے اور ان کی اطاعت شرعاً فرض ہے۔جہاد کے بارہ میں عام مسلمانوں کا موقف ہم نے پوری وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت مولانا سید احمد بریلوی کے حالات پر مشتمل کتاب ”سوانح احمدی مرتبہ 179