امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 178
" بعضی برآنند که روح عیسی در مهدی بروز کند و نزول عبارت از همین بروز است مطابق این حدیث که لامهدی الأعيسى بن مريم“۔(اقتباس الانوار صفحه52مصنفه شیخ محمد اکرم صابری) و یعنی بعض کا یہ مذہب ہے کہ عیسی علیہ السلام کی روح ( روحانیت ) مہدی میں بروز کرے گی اور نزول عیسی سے مراد امام مہدی کا عیسی علیہ السلام کا بروز ہونا ہی ہے۔مطابق اس حدیث کے ہے کہ نہیں مہدی مگر عیسی بن مریم“۔صاحب اقتباس الانوار شیخ اکرم صابری اور جناب خواجہ غلام فرید نے بروز اور تناسخ کے فرق کو بھی بیان فرمایا ہے لیکن وہ بار یک مضمون ہماری موجودہ بحث سے غیر متعلق ہے۔البتہ یہ بات قطعی اور واضح ہے کہ اولیاء اور صلحائے امت نے امام مہدی کو سیح کا بروز قرار دیا ہے۔اور تمام انبیاء کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز۔حضرت خواجہ غلام فرید گدی نشین چاچڑاں شریف سے کسی نے عرض کیا کہ سری کرشن جی اور رام چندر صاحب فقیر اور درویش تھے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تمام اوتار اور رشی لوگ اپنے اپنے وقت کے پیغمبر اور نبی تھے۔(مقابيس المجالس صفحه 388 ناشر اسلامک بک فاونڈیشن لاهور) حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کا ارشاد ہے:۔کیا عجب ہے کہ جس کو ہندو صاحب اوتار کہتے ہیں اپنے زمانے کے نبی یا ولی یعنی نائب نبی ہیں۔(مباحثہ شاہجہانپور صفحہ 41 مطبوعہ جنوری 1891 مطبع مجتبائی دہلی مطبوعہ 1977ء) حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:۔”راجہ کرشن جیسا کہ مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے۔درحقیقت ایک کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا او تار یعنی نبی تھا“۔(لیکچر سیالکوٹ صفحہ 33 روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 228) 178